مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 185
(۱۸۵) ڈاکٹر عبد السلام کا علمی ورثہ ایک قیمتی اثاثہ ہے۔اور محفوظ کر کے رکھنے کے قابل ہے۔سائینس کے فروغ کی وہ مشعل جو عبد السلام نے روشن کی اور جو عالمی سطح پر پاکستان کی عظمت اور سر بلندی کا ذریعہ بنی۔بلا شبہ وہ شمع اور وہی روشنی آج بھی ملک و ملت اور امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کو واپس لا کر علم و دانش کے فروغ کی فضا بحال کر سکتی ہے۔بشرطیکہ ہم جہالت کے تعصبات کو جھٹک کر پھینک دیں۔(روزنامه مسلم - ۸ نومبر ۱۹۹۸ء) افسوس که فاضل مضمون نگار ۲۳ جولائی ۲۰۰۲ء کو واشنگٹن میں رحلت فرما گئے اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے آمین كيا لوگ تھے سوز نفس سے اس کے تھے روشن کئی چراغ فیض سخن سے اس کے تھیں آباد محفلیں کاٹے کا کون شوق سے اب بے ستون درد اب کون سر کرے گا محبت کی منزلیں تھا جادہ حیات پہ یہ روح کا سفر یا بوئے گل تھی ، جس کو صبا ساتھ لے گئی روشن تھا ان کے دم سے شبستان زندگی کیا لوگ تھے کہ جن کو قضا ساتھ لے گئی