مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 184
(۱۸۴) پروفیسر عبد السلام نے اسلامی سائینس فاؤنڈیشن کے منصوبہ کا جو پمفلٹ تیار کیا تھا وہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپ کی کتنی زبر دست خواہش اور دلی تڑپ تھی کہ ہر ممکن طریق سے دنیائے اسلام میں سائینس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر مسلمان ممالک کی غربت اور بد حالی ختم کر کے ان مجبور اور محروم غریب لوگوں کیلئے جدید ترقی یافتہ معیار زندگی ممکن بنایا جا سکے۔انگلستان کے وزیر اعظم نے (غالباً کیمبرج یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے ) پاکستان کے وزیر اعظم کو خط کے ذریعہ درخواست کی کہ وہ پروفیسر عبد السلام کو انگلستان بھجوا دیں۔تا کہ وہ یہاں موجود سہولتوں کو استعمال کر کے اپنی ذہنی اور علمی صلاحیتوں کو اجا گر کر سکیں۔وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ انہیں یہ کہتے ہوئے کوئی شک نہیں ہے کہ ایک وقت آئیگا جب ڈاکٹر سلام سے علمی فیض حاصل کرنے کے مقصد سے ساری دنیا سے لوگ پاکستان جایا کریں گے۔جب وزیر اعظم پاکستان کو یہ خط ملا تو انہوں نے یہ خط پنجاب کی حکومت کو ارسال کر دیا۔کیونکہ اس وقت (سن پچاس کی دہائی کا شروع) ڈاکٹر سلام گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے۔اس درخواست اور پیش کش پر آپ خوش ہوئے اور واپس کیمبرج جانے پر تیار بھی تھے لیکن انہوں نے اپنی ایک خانگی مجبوری اور ضرورت کا اظہار بھی کر دیا۔وہ یہ تھی کہ چونکہ وہ اپنے والدین کے کفیل ہیں لہذا اگر حکومت پنجاب، محکمہ تعلیم کچھ عرصہ کیلئے انہیں ایک صد پچاس روپے ماہوار الاؤنس کی منظوری دے دے تو وہ اپنے والدین کی طرف سے عائد ہونے والی ذمہ داری کو سہولت سے انجام دے سکیں گے۔محکمہ تعلیم پنجاب نے ڈاکٹر سلام کی اس درخواست پر تائیدی نوٹ لکھ کر محکمہ خزانہ کو بھجوادیا لیکن محکمہ خزانہ نے خالص دفتری انداز (بیورو کر ٹیک) میں اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ : اس سے ایک بری روایت قائم ھو جائے گی محکمہ خزانہ کی اس رائے کو نظر انداز کرنے میں مجھے کچھ تر در پیش نہ آیا اور میں نے درخواست پر اضافی نوٹ لکھ دیا کہ اس قسم کی نا خوشگوار مثالیں قائم ہونا پاکستان کیلئے خوشی اور خوش بختی کا باعث ہوں گی۔لہذا اس درخواست کو محض نا خوشکن روایات قائم ہو جانے کے خوف سے تشنہ تکمیل نہیں رہنا چاہئے۔