مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 186
(۱۸۶) پروفیسر منور شمیم خالد (ربوہ) سرسید اور سلام یہ ایک عجیب حسن اتفاق ہے کہ ۱۹۹۶ ء میں ڈاکٹر عبد السلام کا سترواں یوم پیدائش اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری ، ہر دو سطحوں پر عقیدت سے منایا گیا۔وزیر اعظم کی طرف سے پاکستانی سفیر کے ذریعہ آپ کے علاج سے متعلق تمام اخراجات کی ادائیگی کی پیش کش کی گئی۔جس پر ڈاکٹر صاحب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے علاج پر خرچ کی جانے والی تمام رقم اگر پاکستان میں سائینس کی تعلیم کے فروغ پر خرچ کر دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔جناب کنور ادریس ( سابق فنانس سیکرٹری سندھ گورنمنٹ) کے مطابق ڈاکٹر صاحب نے اپنی طرف سے یہ پیش کش بھی کی کہ ورلڈ کرکٹ کپ کی چمپین جیتنے کی صورت میں پندرہ کروڑ کی جو انعامی رقم تقسیم کرنا تھی وہ رقم اگر پاکستان کی سائینس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے فروغ کے لئے حکومت مختص کر دے تو اس کے برابر کی رقم یعنی پندرہ کروڑ روپے کی میچنگ گرانٹ کا اہتمام۔قرضہ کے طور پر نہیں بلکہ تحفہ کے طور پر ڈاکٹر صاحب بذات خود کریں گے۔ذرا ذہن میں لا ئیں اور تصور کی آنکھ سے دیکھیں کس درد دل سے اور کس کرب کے ساتھ ڈاکٹر سلام ، اہل اقتدار اور حامل وسائل کے سامنے کس کس طریق سے منت سماجت کر کے، ہاتھ جوڑ کر کے، بھیک مانگتے ہوئے ، اپنے پیارے وطن اور اہل وطن کو جنجھوڑ کر جگا رہے تھے۔اور سمجھا بجھا رہے تھے کہ آج کے مسابقت کے دور میں ، اگر ہم اپنی صدیوں پرانی حالت غربت، بیماری، بے بسی ، اور ناقدری اور قرضوں تلے دبے رہنے کی نا گفتہ بہ صورت حال ختم کر کے با مقصد زندگی ، خوشحالی اور عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد راستہ جدید سائینس اور ٹیکنالوجی ہے۔یہ وہی عظیم کام ہے جس انیسویں صدی میں سرسید احمد خاں نے مسلمانان ہند کیلئے بھیک مانگ