مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 183
(۱۸۳) صاحبزادہ۔ایم ایم احمد (واشنگٹن) علم و دانش کی شمع فروزاں کے پروفیسر عبد السلام نے اسلامی سائینس فاؤنڈیشن (فورڈ فاؤنڈیشن کی طرز ) کا عالمی ادارہ قائم کرنے کا مشورہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے سامنے پیش کیا تھا۔اس حوالے سے پاکستان کے نامور ما ہر معاشیات، سابق چیف سکرٹری مغربی پاکستان، سابق وفاقی سکرٹری خزانہ اور ڈپٹی چیر مین پلانگ کمیشن ، سابق ڈائریکٹر ورلڈ بینک۔جناب مرزا مظفر احمد رقم طراز ہیں:۔بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے مسلم ممالک کی ایک اسلامی سائینس فاؤنڈیشن کی سکیم تیار کی تھی۔اس اہم منصو بہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے راجہ صاحب آف محمود آباد نے تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں سے رابطہ قائم کر کے ان کو قائل کرنا تھا کہ وہ اپنی فارن ایکس چینج آمدنی کا ایک کم از کم معین حصہ مجوزہ فاؤنڈیشن کے فنڈ میں پیش کریں۔اس فنڈ سے اسلامی ملکوں کے ذہین اور قابل نو جوانوں کو سائینس اور ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم دلانا تھا۔نیز مسلم ممالک میں فروغ سائینس کا یہ منصوبہ تھا کہ ان مسلم ملکوں کی منتخب یو نیورسٹیوں میں سائینسی فاؤنڈیشن کے فنڈ سے طلباء کو سکالرشپ ادا کئے جائیں۔اس فروغ سائینس کے منصوبہ کے تحت راجہ صاحب آف محمود آباد نے سب سے پہلے مڈل ایسٹ کے اسلامی ممالک کا دورہ کرنا تھا۔لیکن بدقسمتی سے راجہ صاحب دل کا دورہ پڑنے سے بیمار ہوکر جلد راہی ملک عدم ہو گئے اور یہ منصوبہ وہیں رک گیا۔خود میں نے بھی اپنے طور پر ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر کی حیثیت میں پاکستان اور مشرق وسطی کے ملکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک میں اس زبر دست سکیم کو آگے بڑھانے اور اس میں دل چسپی پیدا کرنے کے حتی المقدور کوشش کی لیکن مثبت پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔