مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 182
(۱۸۲) معلوم تھا۔کہ اس بچہ کی شوخی گفتار کے چرچوں سے اقبال میری نظر میں زمین و آسماں گونج اٹھیں گے۔نہیں ہرگز نہیں کیا عزیز محمد عبد السلام متعلم مجاعت نیم ما اور پسند اپنی کم مائیگی اور نہی دستی پر گر فیدان خداوندی اس وقت بھی اس بچہ پر دیکھنی اور رفعت تخیل منکر نازل ہورہے تھے جو کہ انٹرنس کے درجہ تک طبیعت میں محفوظ رہے۔مگر ایف ہے کا نے اس میں مولانا میر حسن کی فیضان صحبت نے آئی تا اپدیت افسوس ملتی۔اگر اس کی صرفت سخنی 2 جواہر کو جلا دی۔مگر دنیائے طب آپ کی ولایت کے سفر سے مراجعت تک تشنہ کام رہی جس کے بعد ساقی شیرین جمالی نے اپنے چھلکتے ہوئے ساغر سے سے بیخودی دنیا کے سامنے پیش کی۔قوم کے مجوود سکون سے متاثرہ کو پنجمین حمایت اسلام کے پیچ کالید اس خبر واحد غالب جیسے شاعر پیدا کر چکی ہے۔اقبال سہارا کے شہدار پیدا نہ کرتی۔ہمالیہ کی سر بفلک چوٹیاں زبان حال سے بآوایہ وہی طور بے کلیم ہونے کا اعلان کرتیں۔اور ردو مار گنگا چرخ سی کج ادائی کا شاکی ہوتا۔کے خانہ ہند کا ساغر پر آتش افروزی شروع کر دی۔اور دنیائے اسلام ب گلگوں سے لبالب ساقی کا انتظار کر رہا تھا۔کو پیدا و کر دیا۔جوان بارم میلے مثل کو اکناف عالم میں دور دنیا ہی نہیں آپ کی قبولیت عامہ کا یہ عالم ہے۔کہ آپ کے خوش نمی ساتی خوش حال پنجاب میں سرزمین بیکاری میں حلوہ افروز ہوار حسین کو اس بات کا بکا فخر ہے سوانح حیات آپ کی زندگی ہی میں لکھے گئے۔اور آپ کی حقیقات اصرار بخوای رموز بیخودی بیایم شرق ا قلم سخن اردو کے اس تاجدار نے اس مقام پر وابعد عجم وغیرہ کے تراجم دنیا کی بہت سی زبانوں میں ہو چکے ہیں اور یہ کتب الکاف عالم میں پھیل چکی ہیں بہاری دنیا ہے۔کہ وہ قید خاکی پہنا ے دار ہیں اس تھا ئیدہ بچے کی بلیغ رسا سے کون واقف تھا۔جس سے پہلے دو گیسوئے اردو ابھی وہ منت پذیر شاہ تھی اور جس نے آگر اس کی کایا بیٹے دی۔افلاس کو گنج زردیا۔اس وقت کیا کسی شعر لامت رہیں ہزار پر ہیں۔ہر پر جس کے ہوں دن پچاس ہزار حیدر آباد (انڈیا) میں ڈاکٹر عبد السلام کی یاد میں ہونے والے اطلاس سے نامور اسٹرانومر ڈاکٹر صالح الہ دین خطاب فرما رہے ہیں (ہم تقام مسجد احمدیه ۲۶ جنوری ۰۲۰۰۳)