مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 178
(۱۷۸) کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک اور تیسری دنیا میں سائینس کا فروغ تھا۔یاد رہے کہ آپ صدر پاکستان کے تیرہ سال تک سائینسی مشیر رہے نیز آپ نے کئی ایک اہم بنیادی سائینسی اداروں کی پاکستان میں بنیاد رکھی۔یہ تمام تحریر میں اور کتابیں ٹمٹماتے ہوئے چراغ راہ کی مانند ہیں جن سے پیش آمدہ مسائل پر رہ نمائی مستقبل میں حاصل کی جاسکتی ہے آخر پرانی علمی تخلیقات پر ہی نئی تخلیقات کی بنیاد رکھی جاتی ہے انگلش میں آپ کی تحریر کا انداز منفرد ہوتا تھا۔آپ اکثر اسلامی تا ریخ سے سبق آموز واقعات لیکر تقاریر کو دلچسپ بنانے کیلئے بیان کیا کرتے تھے۔مثلاً ترقی پذیر ممالک میں سائینسدان کا تنہا رہ جانا کے عنوان سے تقریر دلپذیر میں درج ذیل واقعہ بیان کیا: پانچ سو سال قبل ۱۴۷۰ء کے لگ بھگ سیف الدین سلمان جو قندھار کا نوجوان ماہر فلکیات تھا اور اس زمانے کی نامور رسد گاه الغ بیگ (سمر قند) میں کام کر رہا تھا، اس نے اپنے والد کو ایک کر بناک خط لکھا۔بڑی وضاحت کے ساتھ سلمان نے ان مخمصوں کا ذکر کیا جو ایک غریب ملک میں اعلیٰ تحقیقی کیر ئیر کیلئے دل شکنی کا باعث ہوتے ہیں۔اے میرے پیارے والد اس بات پر مجھے فهما ئش نه کیجئے که میں نے آپ کو بڑھاپے میں تھنا چھوڑ دیا اور سمر قند میں عارضی رہائش اختیار کر لی۔اس کی وجه یه نهیں هے که مجهے سمر قند کے خوشبودار سردے۔انگور اور انار کی هوس هے۔یه بهی نهیں که ز ر افشاں کے کنارے پر آباد باغات کا سایه میرے پاؤں کی زنجیر بن گیا ہے۔مجھے اپنے آبائی شهر قندھار اور ان شاهراهوں پر دو رویه درختوں سے عشق ھے اور میں واپسی کے لئے بیقرار ہوں۔مگر میں معافی چاھتاھوں اے میرے قابل صد احترام والد۔میرے دل میں علم حاصل کر نيكا ولوله هے قندھار میں نہ علم دینے والے نہ قدر کر نیوالے ہیں نه کتب خانے هیں نه مزله ( زاوے ناپنے واله آله) اور نه هی فلکیاتی مشاهده گاهیں۔میرا استادوں کو گھورتے رھنا خلق کیلئے نفرت اور تعفن طبع کا باعث