مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 179
(۱۷۹) ھے۔میرے ہم وطنوں کو عالم کے پر وانے سے قلم کی نسبت تلوار کی چمك كهيں زیادہ پسند ھے۔میں اپنے شہر میں اداس ، اور قابل رحم نا کارہ اجنبی ہوں۔اے میرے والد اگر چه یه درست هی که گهر سے اتنی دور جب میں گھوڑے پر سوار ہو کر بازار میں نکلتاهوں تو لوگ میرے احترام میں اپنی نشستوں سے نھیں اٹھتے۔مگر جلد ھی کچھ دنوں میں سارا سمر قند تمھارے بیٹے کیلئے احترام میں کھڑا ھو گا۔جب وہ اپنے علم میں البیرونی ، اور طوسی کی هم سری کریگا۔تب آپ بھی فخر محسوس کریں گے۔اس خط پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد السلام سائینس دانوں کی بیسویں صدی میں تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سیف الدین مسلمان اپنے اساتذہ یعنی البیرونی اور نصیر الدین طوسی کی سی عظمت علم بائیت میں تو نہ حاصل کر سکا مگر اس کے دل سے نکلی ہوئی صدا ہمارے زمانے پر مطابقت رکھتی ہے۔۱۴۷۰ء کے مقابلہ میں آج کے برکلے میں پڑہنے یا کیمبرج میں، یا مزلہ کے مقابلہ میں اعلیٰ توانائی کے ایکسل ریٹرز کا مطالعہ کیجئے قندھار کے مقابلے میں دہلی میں پڑھئے یا لا ہور میں ، ہمارے مقابل سائینسی تحقیق کی ایک ایڈوانس صورت حال ہے۔اسی طرح آپ مغرب میں بننے والی ٹیکنالوجی کا مشرق سے موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: آج سے تقریباً تین سو سال قبل ۱۶۶۰ء میں جدید عالمی تاریخ کی دو عظیم یادگار میں قائم ہوئیں۔ایک مغرب میں۔لندن کا سینٹ پال کیتھڈرل۔دوسری مشرق میں۔آگرہ کا تاج محل ، بیان کی ضرورت نہیں یہ دونوں یادگار میں بذات خود اس بات کا مجسم اظہار ہیں کہ تاریخ کے اس دور میں ان دو میں سے کون سی تہذیب فن تعمیرات کا ریگری، دست کاری، صناعی اور ثروت کی کس منزل پر تھی۔البتہ لگ بھگ اسی زمانے میں ایک تیسری یادگار بھی وجود میں آئی، جس کے بعد کے اثرات زیادہ گہرے اور دو رس ثابت ہوئے۔یہ نیوٹن کی طبیعات کے موضوع پر شہرہ آفاق تخلیق پر نسپیا Principia ہے۔مغرب کے اس شاہکار کے ہم پلہ مغل ہندوستان میں کچھ بھی نہ تھا۔اب میں آپ کو مختصراً