مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 177
(۱۷۷) زبان میں ( کیمبرج ۱۹۹۱ء ) اور جاپانی (ٹوکیو ۱۹۹۱ ء ) زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔خطبات سلام ڈاکٹر سلام ایک شیر میں بیاں فصیح اللسان مقرر بھی تھے۔مذکورہ کتابوں کو لکھنے کے علاوہ آپ نے دنیا جہان کے سفر کئے، ہر براعظم کا سفر کیا تا وہاں ہو نیوالی کانفرنسوں میں خطبات پیش کر سکیں۔ان معرکہ آراء خطبات کو اکٹھا کیا جائے تو ان کی تعداد ایک سو دس کے قریب بنتی ہے۔ان میں سے بعض ایک کا ترجمہ اردو میں کتاب سائینس کا جھان نو ( لاھور ) میں شائع ہو چکا ہے۔نیز انگلش میں ایک کتاب سائینس اینڈ ایجو کیشن ان پاکستان (۱۹۸۷) میں بھی آپ کی چند تقاریر کے مجموعہ کو پیش کیا گیا ہے۔انگلش میں فصاحت و بلاغت سے لبریز خطبات سر سلام کا مجموعہ ٹریسٹ سے شاید شائع ہو۔کتاب ہذا میں بھی ایک ایڈریس کے ترجمہ کے علاوہ ان پر مغز تقاریر کی فہرست دی جارہی ہے۔کاش کہ کوئی علم دوست اس کام کو اپنے ذمہ لے اور ان تمام خطبات کو سنوار کر شائع کر دے۔پھر سائنٹیفک ریسرچ کے ساتھ ساتھ آپ نے دنیا کے وزراء، امراء، سائینسدانوں اور ملکوں کے سربراہوں اور وزیر اعظموں کو جو تجاویز یا رپورٹیں پیش کیں ان کی تفصیل آپ کے آرکائیوز میں موجود ہے جو قریب ۸۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔یہ خط و کتابت عبد السلام آرکائیوز ٹریسٹ سینٹر میں محفوظ ہے۔اس کی ایک وجد آفریں مثال وہ مبسوط رپورٹ ہے جو آپ نے اسلامی سائینس فاؤنڈیشن کے قیام کیلئے اسلامی کانفرنس لاہور کے موقعہ پر پاکستان کے وزیر اعظم کو ۱۹۷۳ء میں پیش کی تھی۔غرضیکہ ان تمام کتب، مضامین تقاریر ، خطوط ، اور پیغامات میں لکھے جانیوالے الفاظ کو اگر گنا جائے تو وہ کم از کم پانچ لاکھ تو ضرور بنتے ہوں گے۔اسلوب بیان آپ کی تحریروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک تو وہ جن کا تعلق تھیور ٹیکل فزکس میں برق مقنا طیس قوت اور ویک نیو کلئیر فورس میں وحدت سے ہے۔اور اس کا تعلق فزکس کے وسیع مضمون کوانٹم فیلڈ تھیوری سے تھا۔دوسرا حصہ ان تحریروں کا وہ ہے جن کا تعلق پاکستان میں سائینس کے فروغ