مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 156
(۱۵۶) شروع کر دی۔یہ ایک دلچسپ داستان ہے جس میں بعض امور ایسے ہیں جو میرے وطن کی امانت ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک میرے سینے کے نہاں خانوں میں مدفون رہیں گے۔۱۹۷۶ء میں ڈاکٹر عبدالسلام مرحوم پاکستان تشریف لائے۔ان کا قیام عموماً ہمارے محکمہ کے گیسٹ ہاؤس میں ہوتا تھا۔میں انہیں وہاں ملنے گیا۔ان کی طبیعت ایسی تھی کہ ہر ایک سے بڑے پیار سے ملتے تھے۔میری ان سے شناسائی اچھی خاصی تھی اگر چہ اس وقت انہوں نے سائینسی مشیر کا عہدہ چھوڑ دیا ہوا تھا۔تا ہم اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر کی حیثیت سے وہ بدستور کام کر رہے تھے۔ویسے بھی ان کے قیمتی اور بے لاگ مشوروں کے طفیل ہی اٹامک انرجی کے جملہ کام اور منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچتے تھے۔میں ان دنوں ۲۷ سال کا نوجوان تھا اور خون بھی جوش مارتا تھا۔میں نے ان سے عرض کی کہ حکومت کی طرف سے اپنے راج سنگھا کا کھونٹا مضبوط رکھنے کی خاطر احمدیوں کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے ہمارے اوپر گھناؤنے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ہماری عزت نفس کو مجروح کرنے کیلئے ہر گھٹیا سے گھٹیا حرکت کی جا رہی ہے۔میرے محکمہ میں میرے خلاف مختلف قسم کے سرکلر جاری ہوتے ہیں۔اور میرے ساتھ نارواسلوک برتا جا رہا ہے۔ان حالات میں میں سخت دہنی کشمکش میں مبتلا ہوں۔میں صوفے پر بیٹھا پندرہ منٹ تک مسلسل بولتا رہا۔بلآخر میں نے اپنا اصل مدعا بیان کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ کیا ممکن ہے کہ ان حالات کے پیش نظر میں یہ محکمہ چھوڑ دوں اور کسی باہر ملک میں چلا جاؤں۔ان کا مشورہ ڈاکٹر صاحب نے اس موقعہ پر جو مشورہ مجھے دیا۔وہ آج بھی میرے کانوں میں کے پردہ سماعت سے ٹکراتا ہوا دل کی گہرائیوں تک اتر تا محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے جو کچھ فرمایا وہ ارض پاکستان سے ان کی گہری، جذباتی قلبی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔فرمایا دیکھو وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم دنوں کو انسانوں پر پھیرتے ہیں۔حکومت کے ایوانوں میں آنیوالے لوگوں کا وجود دھوپ اور سایہ کی مانند ہے۔چند روز کرسی اقتدار کے نشے میں بدمست ہو کر زمین پر متکبر بن