مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 157
(102) کر چلنے اور خوف خدا بھول کر خدا کی مخلوق کو دکھ دینے والے بلاآخر ایک روز اپنے انجام کو ضرور پہنچ جاتے ہیں۔یہ قانون قدرت ہے۔جو ازل سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہتا دیکھو گے۔تم گھبراؤ نہیں ، تم جوان ہو۔ابھی اس ملک کو تمہاری اشد ضرورت ہے۔اگر تم حوصلہ ہار کے یہاں سے چلے گئے تو ملک نے تمہارے ذمہ جو اہم پراجیکٹ لگایا ہے اس کو کون مکمل کرے گا؟ ملک نے تمہاری صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے تمہیں خصوصی پرا جیکٹ کی تربیت دلوائی ہے تم پر پیسہ خرچ کیا۔محض لوگوں کے طعن و تشنیع سے گھبرا کر ملک کے ہم اہم پراجیکٹ کو ادھورا چھوڑ کر چلے جانا حب الوطنی کے خلاف ہے، بہتر ہوگا کہ تم ملک کو اس سے زیادہ دو ( یعنی جو پانچ سال کا بانڈ ہے اس مدت کو مکمل کرو ) محترم ڈاکٹر صاحب ( مرحوم و مغفور ) کا استدلال کیا تھا فصاحت اور بلاغت کا ایک ایسا شاہکار تھا، جس نے میری روح کو مرنقش اور میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔ان کا جواب سن کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے سر سے منوں بوجھ اتر کر گیا ہو۔میری مضحل طبیعت پر سکون ہوگئی۔اور دل حزیں کی کلیاں بے اختیار چٹکتی محسوس ہونے لگیں۔اس وقت میری حالت کسی ہمدم دیرینہ کا اچا نک آ جانیوالی اس کھوئی ہوئی یاد کی لطافتوں کے مصداق تھا۔جس کی عکاسی فیض نے مندرجہ ذیل قطعہ میں کی ہے:۔رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی۔جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے جیسے صحراؤں میں چلے ہولے سے باد نیم۔جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے - امر واقعہ یہ تھا کہ ان کے جواب نے جہاں میری بیقرار روح کے زخموں پر پھاہا رکھدیا وہاں مجھے پراجیکٹ کو مکمل کرنے کا ایک نیا ولولہ اور حوصلہ بھی عطا کیا۔چنانچہ میں اپنے مشن میں پوری تندہی سے مصروف کار ہو گیا۔اور خدا کے فضل سے دن رات خون پسینہ ایک کر کے اور بعض اوقات تو اپنی زندگی پر داؤ لگاتے ہوئے مقامی طور پر مطلوبہ پلانٹ اور کینڈو فیول دنیا کو بنا کر دکھا دیا۔جس پر حکومت امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ کراچی کی سڑکیں اندھیری ہو جا ئیں گی۔لیکن بقول شخصے :