مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 155 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 155

امریکہ کا دباؤ (100) پاکستان اٹامک انرجی میں میری سی لیکشن ایک خاص پروجیکٹ میں ہوئی جس کے سپرد نیو کلیر فیول فیریکشن (یعنی ہیوی واٹر کی تیاری) جیسا اہم کام تھا۔یہ فیول کراچی کے ایٹمی گھر کیلئے تیار کیا جانا تھا۔اس کو تیار کر نیوالے پاکستان اور کینیڈا کی حکومتوں کے باہمی معاہدے کے تحت چار انجیر ز اور دو سائینسدانوں کی ٹیم کینڈا پہنچ گئی۔مئی ۱۹۷۴ء میں ہی بھارت نے ایٹمی دھما کہ کیا۔جبکہ ہماری ٹیم سے دس سال قبل انڈین انجیر ز کی ایک ٹیم بھی کینیڈا سے مذکورہ پلانٹ کی ٹریننگ حاصل کر چکی تھی۔انڈیا کے اچانک ایٹمی دھماکے کے پیش نظر ہمارے پروجیکٹ کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ گیا۔تاہم پاکستان کی طرف سے حکومت کینڈا کو بعض تحفظات کی یقین دہانی کرانے کے نتیجہ میں وہاں کی حکومت اپنے پلانٹ پر ٹریننگ دینے پر رضا مند ہو گئی۔ہماری ٹیم کینڈا میں ٹریننگ لینے میں مصروف تھی کہ اس دوران مئی ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے سیشن کے سانحہ کے نتیجہ میں پاکستان کے طول و عرض میں جماعت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع ہو گیا۔ادھر ملک میں ہمارے محکمہ میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ مذکورہ ٹیم میں مجھ سمیت جو دو احمدی آفیسر ز ہیں وہ اب واپس نہیں آئیں گے۔اور یوں یہ پروجیکٹ سبوتاژ ہو جائیگا۔چونکہ اللہ کے فضل سے کسی احمدی کی سرشت میں اپنے ملک سے غداری کا خمیر نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں نے تو اس مملکت خداداد کے پودے کے قیام اپنے خون جگر سے آبیاری کی تھی لہذا کیسے ممکن تھا کہ جس ملک نے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے ایک نازک ذمہ داری کیلئے ہمارک انتخاب کیا تھا۔ہم اس کی امانت میں خیانت کر نیکا تصور کیسے لا سکتے تھے۔بہر کیف جب ہم اپنی ٹریننگ مکمل کر کے پاکستان واپس آگئے تو علم ہوا کہ امریکہ نے بھٹو کے ایٹمی دھما کہ کے متعلق اعلامیہ بیانات کے ردعمل کے طور پر کینڈا پر دباؤ ڈال کر مذکورہ پلانٹ کی پاکستان کو ترسیل رکوادی ہے۔بعد ازاں بھٹو نے ایک سرکردہ شخصیت کو ہماری ٹیم کے پاس بھیجا کہ چونکہ پلانٹ کی ترسیل رکوادی گئی ہے۔اسلئے ہماری ٹیم یہ پلانٹ پاکستان میں ہی ڈیزائن اور تیار کرے۔اگر چہ ہماری ٹیم کیلئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا مگر اللہ کا نام لے کر ہم نے پلانٹ کی تیاری