مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 148 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 148

(۱۴۸) یہ کسی کو نہ بتائیں۔بھائی جان نے سخت تاکید کر رکھی ہے کہ کسی کو معلوم نہ ہو۔کویت میں کانفرنس نومبر ۱۹۹۲ء میں تھرڈ ورلڈا کا ڈمی آف سائینس کے زیر اہتمام کویت میں چوتھی جنرل کا نفرنس منعقد ہوئی۔۷۸ سے زائد ملکوں سے تین سو سائینسدانوں نے شرکت کی۔مجھے صرف محبت کی ترجیح کی بنیاد پر آپ کی طرف سے بلاوا آ گیا۔کا نفرنس کے شرکاء طنزاً کہا کرتے تھے کہ عبد السلام نے اپنے ملک سے سب سے زیادہ نمائندے بلائے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی رنگ ہیں ان کے نمائندے یہاں موجود تھے۔ہر مذہب ہر عقیدہ کے لوگ یہاں کویت میں ایک چھت تلے جمع تھے۔ہر زبان بولنے والے، یہاں حاضر و شریک تھے۔انسان نے جتنے علوم ایجاد کئے ہیں ان کے نمائندے یہاں موجود تھے۔یہ بین الانسانی اجتماع صرف اور صرف ایک شخص عبد السلام کا مشکور تھا۔ٹھیک آٹھ بجے ہال کا دروازہ کھلا۔دو مددگار ایک شخص کو وھیل چیئر پر سہارا دیتے ہوئے داخل ہوئے ،شرکاء اجلاس تالیاں بجاتے ہوئے احتراماً کھڑے ہو گئے۔یہ احترام پاکستان کے اس نامور فرزند کو دیا گیا تھا جس نے روزانہ چودہ سے سولہ گھنٹے کام کر کے یہ اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا۔ان کی کرسی جب مرکزی میز کے کنارے آہستہ آہستہ آن لگی تو انہوں نے کشادہ مسکراہٹ کے ساتھ سب کا استقبال کیا کیونکہ ان کے ہاتھ ہل نہیں سکتے تھے۔سر ہلا کر انہوں نے حاضرین سے بیٹھ جانے کی درخواست کی ، ہال کے اندر خموشی طاری ہو گئی۔کسی نے ایجنڈا اٹھا کر ان کی آنکھوں کے آگے کر دیا، ھال کے اندر تمام مائیکروفون گونج اٹھے، بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے ساتھ بیٹھے ہوئے روسی نمائندے نے کہا، سلام نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، اس نے کہا یہ اللہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا گاڈ، کیپٹل جی سے، بولا۔اتنا بڑا آدمی اور میتھالوجی پر یقین رکھتا ہے۔