مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 147 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 147

(۱۴۷)۔میں کسی سیاست دان کا سایہ بھی اپنے اوپر نہ پڑنے دوں گا۔بے نظیر کو پتہ چل گیا تو مجھے ایسی جگہہ پھینک دیں گی کہ میں سائینس میگزین کا نام لینا بھی بھول جاؤں گا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی گھورتی ہوئی آنکھوں سے میرے باطن کا ایکس رے لیا، مسکرائے اور کہا آپ ٹھیک کہتے ہیں۔میں اٹلی پہنچ کر ان کو فیکس کر دوں گا آپ فکر نہ کریں۔میں نے وہاں سے اجازت لی اور اٹھ آیا۔وہ رات میں نے گویا کانٹوں پر بسر کی۔ایسے سائینسدان کا جو بات بات پر قرآن کے حوالے دیتا ہے۔اسکا بت پرست ہونا سمجھ میں نہ آیا۔اگلے روز میرے سے رہا نہ گیا اور میں نے ان کی ہمشیرہ حمیدہ کو فون کیا۔وہ بہت خوش معلوم تھیں کہ بھائی جان نے غریب نوازی کی۔مدت کے بعد ان کے گھر آئے۔ورنہ پہلے وہ ہوٹلوں میں ٹھہر کر باہر ہی سے چلے جاتے تھے۔میرا بھائی بہت خوش خوارک ہے، پائے بڑے شوق سے کھاتا ہے، میں نے یہ چیزیں پہلے ہی سے تیار کر لیں تھیں۔مبشر بتلا رہا تھا کہ آپ جلدی میں چلے گئے۔میں نے جسارت کر کے پوچھ ہی لیا۔کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس بیٹھک میں آنے سے پہلے بغلی کمرے میں کس کے پاس تھے؟ کہنے لگیں بہت بہت ذاتی بات ہے۔انہوں نے سختی سے منع کر رکھا ہے۔یہ ان کے آخری استاد ہیں جو ابھی تک زندہ ہیں۔باقی سب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔کیا بتاؤں بھائی جان اپنے سارے استادوں کی اتنی عزت کرتے ہیں کہ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔وہ اس یا پچاسی سال کے تو ہوں گے۔بھائی جان کو انہوں نے چھٹی یا ساتویں جماعت میں پڑھایا تھا۔پہلے یہ جھنگ میں تھے کبھی وہ ان سے ملنے خود جھنگ جایا کرتے تھے۔اب مصروفیت زیادہ ہوگئی تو ان کو کراچی بلوالیا ہے۔کراچی آتے جاتے ہیں تو قدم بوسی کیلئے خود ان کے پیش ہوتے ہیں۔لاہور سے بھائی جان نے فون کیا میرے پاس وقت بہت کم ہے۔کورنگی سے ان کو کسی آرام کرسی میں بٹھا کر لے آئیں کہ تکلیف نہ ہو۔ہم نے گاڑی کرایہ پر لے کر انہیں اپنے یہاں بلوالیا تھا لیکن وہ پانچ منٹ بعد چلے گئے۔میں آپ کو کیا بتاؤں۔میرا بھائی انسان کے بھیس میں فرشتہ ہے