مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 149 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 149

(۱۴۹) ایک عجیب منظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا، مسلمانوں کے سامنے یہ شخص بسم اللہ پڑھے تو کافر، کافروں کے سامنے بسم اللہ پڑھے تب بھی کافر۔جنرل کانفرنس کے اجلاس کے آخر پر پاکستان کے سفارت خانے میں وہاں سے آئے ہوئے سائینسدانوں کے اعزاز میں پارٹی ہوئی۔ایس اے درانی ، عطاء الرحمن، اور دوسرے احباب نے شرکت کی، ڈاکٹر سلام نے کہا کہ چند ماہ قبل جب عمران خاں اپنے ہسپتال کیلئے چندہ لینے آیا تھا۔تو چندہ دینے والوں کی قطار لگ گئی تھی ، آٹھ لاکھ روپے جمع ہو گئے تھے۔یہ لوگوں کی تعلیم کا معاملہ ہے یہ اس سے بھی بڑا نیک مقصد ہے امید ہے آپ لوگ بڑھ چڑھ کر چندہ دیں گے۔ان کی تقریر کے بعد میری باری تھی وہ میرے دائیں بازو میں اپنی وھیل چیر میں بر انجمان تھے۔اس وقت وہ نوبل لا رئیٹ ، پروفیسر عبد السلام نہ تھے۔بلکہ ان کے اندر سے جھنگ والا دیہاتی نکل کر اپنے یاروں اور دوستوں سے گھل مل گیا تھا۔کراچی سے چلتے وقت میں نے ان کی ہمشیرہ کو فون کیا کہ میں کو یت جا رہا ہوں۔کوئی چیز یا کوئی پیغام بھیجنا ہوتو بتا دیں۔انہوں نے کہا کہ ہاں ایک کام تو ہے۔میں نے کہا ضرور کروں گا۔فرمایا اس ہجوم عاشقان میں اگر آپ کو میرا بھائی نظر آئے تو اس کو اس بہن کا سلام کہنا۔میں نے اپنی تقریر کا آغاز اسی جملے سے کیا۔مجھے ڈاکٹر سلام کے سکی لینے کی آواز آئی۔کرسی میں دھنسا ہوا ان کا بھاری جسم ہل رہا تھا۔اور آنسو چہرے سے پھل رہے تھے۔میں ایک دم اداس ہو گیا۔رنگ محفل متغیر ہو گیا۔وہ علالت کی وجہ سے حرکت نہیں کر سکتے تھے۔کسی قدر توقف کے بعد میں نے حاضرین سے کہا۔کہ جس روز میں کراچی سے چلا تھا اسی روز ڈان اخبار میں ڈاکٹر سلام کا آئی ایچ عثمانی کی یاد میں مضمون چھپا تھا۔میں نے یہ مضمون جہاز میں پڑھا ہے میں نے سوچا۔بجائے اپنا مضمون پیش کرنے کی بجائے میں یہ مضمون گوش گزار کروں گا۔ڈاکٹر عبدالقدیر کے نام سے بچہ بچہ واقف ہے۔مگر پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں رنگ بھرنے والا اور دنیا کو ایٹمی نقشے میں جگہہ بنانیوالا ڈاکٹر عثمانی تھا۔میں جب یہ مضمون پڑھ رہا تھا تو میں نے دیکھا