مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 146 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 146

(۱۴۶) اعظم کی۔خوبصورتی سے فریم کرایا گیا اور پھر ان کو آفس میں اس شرارت سے آویزاں کیا گیا کہ جب ڈاکٹر سلام اس زاوئے پر بیٹھے ہوں گے تو ان کو اپنی تصویر دیکھنے کیلئے قدرے گھومنا ہوگا۔اگلے روز فون آیا کہ میں دو ڈھائی گھنٹے بعد کراچی پہنچ رہا ہوں آپ برائے کرم بارہ بجے کے قریب میری ہمشیرہ کے گھر پہنچ جائیں۔مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے یہ ہے انکا فون نمبر۔میں ان کی ہمشیرہ کے گھر طارق روڈ (کراچی) پر پہنچ گیا۔بارہ بجے کا وقت تھا باہر ایک سوزو کی پک اپ کھڑی تھی۔چند ایک ان کے ملنے کے مشتاق بھی کھڑے تھے۔اس وقت ڈاکٹر صاحب کی علالت پیروں سے شروع ہو چکی تھی۔میں سمجھ گیا یہ گاڑی ان ہی کیلئے ہے۔ان کو چلنے کیلئے چھڑی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔جس کمرے میں ہم بیٹھے ہوئے تھے وہ بیٹھک تھی۔دیواروں پر قرآنی آیات کے خوبصورت طغرے لٹکے ہوئے تھے۔لیجئے ڈاکٹر صاحب کی سواری آگئی۔ان کو بغلی کمرہ میں لے جایا گیا ان کے قدموں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔دونوں کمروں کے درمیان کواڑ بند تھے۔مگر کچھ جگہہ خالی رہ گئی تھی میری نظر اسی جگہہ جمی ہوئی تھی دوسری طرف اونچی کرسی پر ایک بت رکھا ہوا تھا۔سر پر پگڑی لمبی سفید داڑھی ، میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب جھک کر اوتار کی قدم بوسی کر رہے ہیں۔کسی نے کواڑ بند کر دیا اور میں خفیف ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ڈاکٹر صاحب کی اس بت پرستی سے میرے خیالات متزلزل ہو گئے۔سائینس فاؤنڈیشن کا قیام ڈاکٹر صاحب اپنی ہمشیرہ اور بھانجوں اور بھانجیوں سے مل کر ہمارے کمرہ میں آگئے۔سب سے پہلے انہوں نے مجھے اپنے قریب بلایا۔فرمایا میں تین دن سے لاہور تھا۔پنجاب گورنمنٹ نے بلایا تھا۔چیف منسٹر نواز شریف نے سائینس فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ایک وسیع پروگرام بنایا ہے۔میں نے پورا پلان اور پروگرام بنا کے دے دیا ہے۔دراصل اس کے پیچھے اس کے بھائی شہباز شریف کا ہاتھ ہے۔آپ کا نام میں نے بطور ڈائریکٹر پبلی کیشن ان کو لکھوا دیا ہے۔ہینڈ سم تنخواہ ہو گی، کوٹھی ، کار اور دیگر مراعات۔میں نے عرض کیا۔ڈاکٹر صاحب جان کی امان پاؤں۔آپ کی نوازشات میرے لئے کافی ہیں