مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 135
(۱۳۵) مفکروں ، اور دانش وروں اور فلسفیوں پر ہم نے کفر و الحاد کے فتوے لگائے جن پر ہم نے زیست حرام کر دی تھی۔اب ان کے ناموں کے آگے رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ امام نہ لکھنے کو کفر قرار دیتے ہیں۔ہم بھول چکے ہیں کہ ابن حزم کا مدرسہ اور کتب خانہ ہم ہی نے جلایا تھا اور قید و بند کی صعوبتوں سے ہم نے اسے گزارا تھا اور آج وہ امام ابن حزم ہیں۔ابن تیمیہ سے سلوک ہم کسی کو نہیں بتلاتے کہ ہم نے ابن تیمیہ کی کتابیں جلائیں اور اسے بھی قید کیا اور اس پر بھی جب ہمارا جی خوش نہ ہوا تو اس سے تالیف و تصنیف کی آزادی سلب کر لی۔اس کی کتابیں اور مسودے ضبط کر لئے۔آج اسے ہم ابن تیمیہ رحمتہ اللہ لکھتے نہیں تھکتے۔اور ہم تاریخ کا یہ حصہ چھپاتے ہیں کہ کاغذ و قلم سے محروم ہونے والے ابن تیمیہ نے اپنے ناخنوں سے قید کی دیوار کو کھرچ کر کیا جملہ لکھا تھا ؟ مسلم دنیا کا آخری نام۔ابن رشد ہے نام اس کا۔جو اپنے خیالات و افکار کے سبب قید و بند میں رکھا گیا جسے مسجد قرطبہ کے نمازیوں کے جوتے صاف کرنے کی سزا دی گئی جس کی کتابیں قرطبہ کے چوک میں جلائی گئیں ابن رشد کے حوالے سے یوروپ کی نشاۃ ثانیہ کا سہرا ہم اپنے سر باندھتے ہیں ہم فخر سے کہتے ہیں کہ راجر بیکن نے ۱۲۳۰ء میں ابن رشد کے لاطینی ترجمہ کو یوروپ کی علمی تاریخ کا عظیم واقعہ قرار دیا تھا عالم اسلام میں عقل پروری اور دوستی تو ابن الہیشم اور البیرونی سے پہلے ہی ہو چکی تھی اور یہ عمل بارہویں صدی کے آخر میں ابن رشد کی سپین سے ذلت آمیز جلا وطنی کے ساتھ مکمل ہوا۔اس عظیم سانحے کو ہزار برس گزر چکے ہیں لیکن مسلسل پستیوں میں اترتے رہے ، یورپی استعمار کی نو آبادیات بن جانے اور نام نہاد سیاسی آزادی کے بعد مغرب کی اقتصادی غلامی میں آجانے کے بعد سائینس اور ٹیکنالوجی کے باب میں ، ایک روشن الخیال اور وسیع المشرب سماج کی تعمیر میں آج بھی دسویں گیارھویں اور بارھویں صدی سے آگے نہیں بڑھے۔ابن رشد کو ہسپانیہ کے یہودیوں نے سینے سے لگایا اور اس کے افکار و خیالات یوروپ کی علمی ترقی کا نقطہ آغاز بنے۔اور ہم آج آٹھ سو برس بعد بھی اتنے بد بخت ہیں کہ ہم نے اپنے ایک نابغہ روزگار