مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 136 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 136

(۱۳۶) کیلئے اس کے اپنے ملک میں اس کیلئے عرصہ حیات تنگ کر دیا۔دیار غیر میں جلا وطنی کی زندگی گزار والے عبد السلام سے مشرق و مغرب کی ذہانتیں استفاده کرتی ھیں وہ نوبل انعام لینے جاتا ہے تو سویدن کا بادشاہ اور ملکہ معظمہ اس کا انتظار کر تے ھیں اسکی آمد کا اعلان بگل بجا کی کیا جا تا ہے اجلاس میں هزارها سا نینسدان، دانشور سب گھڑے ھو کر اس کی تعظیم کرتے هیں جب یہ نوبل انعام یا فتہ سا نینسدان اپنے ملک کا رخ کر تاہے تو بر سر اقتدار افراد اس کو ملاقات کا وقت نہیں دیتے۔معمو لی اهل کار سائینس کے فروغ اور ترقی کے معاملہ میں اس کی بیش قیمت آراء کو سرد خانے میں ڈال دیتے ہیں۔اور اسی شہر میں (کراچی) کا ایک تعلیمی ادارہ اسے اپنے یہاں مدعو کرتا ہے تو ایک ٹولہ اس کی آمد کو کفر و اسلام کی جنگ میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج ہم تباہی و بربادی کی جس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں اس کا بنیادی سبب علم دشمنی، جہل دوستی، اور اپنے عالموں اور فاضلوں کی توہین ہے۔ہم اپنی ذہانتوں کو دیس نکالا دیتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ہم اس ملک میں تفکر تدبر کے سوتوں پر پہرے بٹھا دیتے ہیں۔ہم اپنی دانش گاہوں میں ذہانتوں کو پنپنے نہیں دیتے ، اور دوسروں کو کبھی کافر بھی بے راہرو قرار دے کر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ مغرب کا رخ کریں ، اور یوروپ و امریکہ میں ان کی ذھانتیں گل و گلزار دکھلائیں۔