مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 134
(۱۳۴) زاہدہ حنا صاحبہ (کراچی) دنیا میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں ڈاکٹر عبدالسلام کی سترھویں سالگرہ منانے کیلئے بزم عبد السلام کے تحت کراچی کے ایک عالی شان ہوٹل میں ۱۳ مارچ 1991ء کو ایک تقریب منعقد کی گئی جس کی صدرات جسٹس دراب پٹیل نے کی اس موقعہ پر نو جو ان مقررہ زاہدہ حنا نے اپنے پر انگیخت خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا:۔جناب صدر اور معزز خواتین و حضرات مکرم شاہ صاحب نے آپ کو بتا ہی دیا کہ میں ادھر ادھر کی باتیں کر جاتی ہوں کہنے کو کچھ آتی ہوں اور کہہ کچھ جاتی ہوں ، آج بھی یہی عالم ہے۔کیا ہم آج یہاں اس لئے اکھٹے ہوئے ہیں کہ بیسویں صدی کے اختتام پر دنیا کا ایک ذی وقار شہری اور مایہ ناز سائینس دان ستر برس کا ہو گیا ہے۔کیا ہم آج اس لئے یہاں آتے ہیں کہ اس انسان کو اس کے سائینسی کارناموں پر داد دیں؟ اس کے علم و فضل کے باب میں فصاحت اور بلاغت کے دریا بہائیں؟ ہو سکتا ہے کچھ لوگ آج یہاں اس مقصد سے آئے ہوں لیکن میں یہاں اس لئے نہیں آئی۔وہ شخص مشرق و مغرب کی دو درجن سے زیادہ یو نیورسٹیوں کا اعزازی ڈگری یافتہ ہے ایک درجن سے زیادہ بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے وہ درجن کے قریب سائینسی کام کرنے والی سوسائیٹیوں کی فیلوشپ رکھتا ہے اس کو اس تعریف و توصیف کی ذرہ بھر ضرورت نہیں۔میں یہاں حاضر ہوئی ہوں تو اس لئے کہ ڈاکٹر عبد السلام کی سترھویں سالگرہ کے موقعہ پر اپنی قوم کی بد بختی پر گریہ کروں ہم نے نوبل انعام یافتہ عبد السلام کے ساتھ وہ کچھ کیا جو ہم برسوں سے اپنے علماء و فضلاء کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ہم تاریخ کے اتنے بڑے جھوٹے ہیں کہ کل جن اپنے خرد افروز