مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 116
(IM) پروفیسر ایس ایم انصاری (علی گڑھ) ایک ذاتی تاثر پروفیسر عبد السلام سے میری پہلی ملاقات ۱۹۲۶ء میں آئی سی ٹی پی (ٹریسٹ اٹلی ) میں ہوئی تھی۔یہ ادارہ اس وقت وہاں ایک کرائے کے مکان میں تھا اس وقت وہ بہت جوان اور فعال تھے۔بہت آرام سے انہوں نے باتیں کیں اور میری باتیں سنیں۔میں اس سے پہلے ۱۹۶۴ میں انسٹی ٹیوٹ آف تھیورٹیکل فزکس ہمبرگ (جرمنی) میں ریسرچ کر رہا تھا تو وہاں ان کو ایک سیمینار میں لیکچر کیلئے مدعو کیا گیا۔اس میں وہ واحد پاکستانی تھے لیکچر کے بعد ان کو اس بات میں کوئی جھجک محسوس نہ ہوئی کہ مجھ سے اردو میں دو چار باتیں کریں۔انہوں نے بڑی بے تکلفی سے دوسرے ممالک کے لوگوں کی موجودگی میں مجھ سے اردو میں باتیں کیں۔میں نے ڈاکٹر آف سائینس ۱۹۶۶ء میں کیا ۶۸۔۱۹۶۷ء میں جب میرا تھیس Thesis چھپ گیا تو میں نے لکھا کہ میں ان کے یہاں آؤں اور کچھ ریسرچ کا کام کرسکوں۔تو انہوں نے لکھا کہ آپ چونکہ ایک مغربی انسٹی ٹیوٹ میں کام کرتے ہیں اس لئے ہم آپ کو مدعو نہیں کر سکتے۔آپ کا انسٹی ٹیوٹ اپنے طور بھیجے تو وہ الگ بات ہے۔اس کے بعد متعدد بار میری ان سے ملاقات رہی۔۱۹۷۳ء میں کا سالوجی (یعنی کو نیات) پر ایک سیمینار میں وہاں گیا ان کے کمرے کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا تھا۔آپ بغیر کسی اپوائنٹ منٹ کے ان سے مل سکتے تھے۔یہ ایک بڑی بات تھی بڑی آسانی سے ان تک پہنچا جا سکتا تھا۔۱۹۷۶ء میں نتھیا گلی (پاکستان) میں ان سے ملاقات ہوئی ایک کانفرنس اور Physics & contemporary needs پر ایک سیمینار بھی تھا یہ کا نفرنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے منعقد کی تھی۔اس میں ہندوستان سے سائنسدانوں کو بلانے پر انہوں نے اصرار کیا تھا اس زمانے میں ایمر جیسی کی وجہ سے پاکستان سفر کرنا بہت مشکل تھا ایک صاحب اس میں ڈاکٹر ناگ چودھری اور دوسرے صاحب شاید آئی آئی ٹی کے تھے اس کا نفرنس میں میں نے بھی دو مقالہ جات پڑھے۔ایک اپنے