مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 117
(112) موضوع سولر فزکس سے متعلق اور دوسرا ایوننگ ٹاک سپیس ریسرچ ان انڈیا کے موضوع پر۔یہ کلاسی فائیڈ نہیں بلکہ پبلشڈ تھا۔ہندوستان کی پلیس ریسرچ سے وہ یقیناً واقف رہے ہوں گے لیکن انہوں نے مجھ سے متاثر ہو کر کہا کہ آپ جب بھی یوروپ آئیں تو مجھے مطلع کریں میں آپ کو بلاؤں گا اتفاق سے اسی سال اگست میں مجھے یو نیورسٹی آف گرے نوبل (فرانس) میں جنرل اسمبلی آف انٹر نیشنل اسٹرانومی کل یونین کی سالانہ کا نفرنس میں جانا تھا۔میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ دو تین ہفتے کیلئے ہمارے یہاں آئیں۔وہاں انہوں نے مجھ سے اسٹرانومی ان انڈیا پر لیکچر دلوایا۔ایک لیکچر میں وہ بہ نفس نفیس تشریف لائے اور دلچسپی لی دو تین ملاقاتیں حکیم عبد الحمید کے یہاں رہیں۔۱۹۸۴ء سے لیکر ۱۹۸۶ء تک میں دہلی میں ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری اینڈ سائینس قائم کرنے کی تگ و دو میں تھا وہ ایک دفعہ وہاں بھی آئے۔ان سے میری گفتگو ہسٹری اور سائینس کے سلسلے میں وہ Sciences in Islamic countries in medieval times میں بہت دل چسپی رکھتے تھے۔بہت ہوئی۔وہ انہیں کوئی عار نہیں تھا کہ اگر کوئی بات انہیں معلوم نہیں ہے تو وہ سیکھیں یا معلوم کریں۔کویت میں جب (۱۹۹۲ء) کا نفرنس کے افتتاح کیلئے ان کو بلایا گیا تو اس میں انہوں نے اسلامی سائینسی ورثہ پر بہت زور دیا اور کام کرنے کیلئے کہا کہ اپنے ماضی یعنی Achievements of Muslim Scientists پر بھی کام کرنا چاہئے اور نئی نسل کو بتلانا چاہئے کہ صرف نیوٹن اور آئن سٹائین سے ہی متاثر نہ ہوں بلکہ انہیں معلوم ہو کہ ہمارے یہاں بھی بڑے بڑے سائینسدان ہو گزرے ہیں۔اسی طرح مسلم اور عرب ممالک کے سائینسدانوں کی سائینسز سے بھی وہ متاثر تھے۔ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ آدمی تو ایلی مینٹری پارٹیکلو کے تھے لیکن انہیں دوسری برانچز سے بھی دلچسپی تھی۔کانفرنسیں کرائیں اور دلچسپی لی اور اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو میں Heritage of Science قائم کرائی اور اس پر ایک هند و ستانی سائینسدان کوهی مقرر کرایا۔(ماخوذ از تہذیب الاخلاق۔مارچ ۱۹۹۷)