مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 115 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 115

(110) ٹریسٹ کا مرکز اب ایک سائینس کی فیکلٹی (انسٹی ٹیوٹ) جیسا ہو گیا ہے جس میں نظری طبیعات سے شروع ہو کر لیزرز، الیکڑانکس، ٹھوس مادہ کی طبیعات، سمندر پیمائی، اور حیاتیاتی سائینس کے موضوعات پر الگ الگ پورے پورے انفرادی مراکز اور ان کی تجربہ گا ہیں قائم ہو گئی ہیں یا قائم ہو رہی ہیں۔ٹریسٹ یونیورسٹی اور قریب ہی واقع سائیکلوٹرون Cyclotron سے مرکز کا گہرا تعلق ہے اور سلام نے اپنے آخری سال جب انہیں نوبل انعام مل چکا تھا اور ان کی صحت جلتی مشعل کی طرح گھٹ رہی تھی جس کے باعث نظری طبیعات میں وہ پہلے جیسا حصہ نہ لے سکتے تھے تو انہوں نے عمر عزیز کا باقی ماندہ حصہ ان مراکز کی تنظیم اور استحکام پر صرف کر دیا۔سلام نے نظری طبیعات میں خفیف قوت کو برقی مقنا طیس قوت کے ساتھ ملا کر نو بل انعام حاصل کیا۔اس کے علاوہ وہ زندگی بھر طبیعات میں موزونی یعنی سیمٹری کی جمالیات تلاش کرتے رہے اور طبیعی میدانوں اور قوتوں کی کثرت کو وحدت کی طرف لانے کی عالمی کوششوں کے سربراہ کے طور پر شریک رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے عمر عزیز اور اپنی جسمانی تیز دماغی طاقتوں کا بڑا حصہ اس لئے صرف کیا کہ پسماندہ ممالک کے غریب باشندے علم و عمل، نیک نامی، اور خوش حالی سے ہم کنار ہوں۔اس طرح انہوں نے اپنی مشکل دونوں سروں پر جلائی اور بہ مشکل تمام ستر سال جی سکے۔آخری دو سال تقریباً کوما Coma میں گزارے۔انہیں ایک بہت شاذ قسم کی پارکنسن کی بیماری ہو گئی تھی جس میں دماغ پوری قوت سے کام کرتا رہتا ہے لیکن اعصاب مفلوج ہو جاتے ہیں۔عبد السلام نے اپنے فکر و عمل سے ہماری بے حسی اور نا کردہ کاری کی جتنی تلافی کی جاسکتی تھی کی لیکن ان کی شمع کو ان کے بعد جلتے رکھنا جو بڑا کام ہے اسے کرنے والے ہم میں سے کون ہوں گے۔۔ہے مگر رلب ساقی پہ صلا ان کے بعد ما خوز از ـ تهذیب الاخلاق ـ عبد السلام نمبر ـ مارچ ۱۹۹۷ء