مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 94
(۹۴) اور منتظم۔ان میں سے ہر ایک کو بیان کرنے کیلئے ایک دفتر درکار ہوگا۔(1) آپ ایک زبر دست اعلیٰ پایہ کے بین الا قوامی سائینس دان تھے۔(۲) ایک قابل ذکر استاد جس نے چالیس سال تک تدریس کا کام کیا اور ہزاروں لائق و فائق شاگرد پیدا کئے جن میں سے ایک نو بل انعام کا مستحق قرار پایا۔(۳) ایک کہنہ مشق ادیب اور فاضل مصنف جس کے اشہب قلم سے ۲۷۳ سائینسی مضامین اور ایک درجن کے قریب مضخیم کتب منظر عام پر آئیں۔آپ کے تبحر علمی کا ایک عالم معترف تھا۔ایک بلند پایہ، نامور، سکہ بند ، انشاء پرداز جس کے خیال کی رفعت پرواز کا کوئی وہم بھی نہیں کر سکتا تھا۔(۴) ایک بلند پایہ مقرر جس نے ایک صد کے قریب بین الاقوامی جلسوں اور کانفرنسوں سے خطاب کیا۔حاضرین میں بعض دفعہ چھ سات نوبل انعام یافتگان آپ کو ہمہ تن گوش ہو کر سنتے تھے۔(۵) ایک کامیاب و کامران منتظم جس نے ایک یو نیورسٹی کے درجہ کا انسٹی ٹیوٹ اپنے ذاتی اثر د رسوخ سے قائم کیا اور تمیں سال تک اسکے ڈائر یکٹر رہے۔(1) سائینس کا ایک با اثر سفیر جس نے تیسری دنیا میں سائینس کے فروغ کیلئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔بردباری، اولوالعزمی، معاملہ فہمی ، دور اندیشی ، حسن کردار جیسی خوبیوں کا مرقع۔(۷) عبد السلام۔امن کا شہزادہ جس نے دنیا میں ایٹمی تباہی کو ختم کرنے اور بین الا قوامی امن کے قیام کے سلسلہ میں ہائی لیول کیمٹیوں کی صدارت کی اور اس ضمن میں کئی ممالک کا سفر کیا۔(۸) ایک وسیع القلب، کشادہ ذہن اور مشفق انسان جس نے ہزاروں طلباء کیلئے وظائف کا انتظام کیا۔ان کو امریکہ اور یورپ میں داخلے دلوائے اور کم سرمایہ والے سکولوں۔کالجوں کو سائینسی سامان مہیا کر نیکا ذمہ اپنے سر خود لیا وطن عزیز کے پانچ سو انجنیر وں اور سائینسدانوں کی تعلیم کا مغرب کی درسگاہوں میں انتظام کیا۔(۹) ایک محب وطن جس نے ساری عمر سبز رنگ کے پاسپورٹ پر سفر کرنے میں کوئی عیب محسوس نہ کیا۔اور اپنے مادر وطن کی بہبودی اور خوشحالی کے کئی کامیاب منصوبے بنائے۔