مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 93 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 93

(۹۳) Thank you for your good wishes for my health expressed in your kind letter of۔۔۔۔۔۔26th March 1990 and for the enclosed copy of the translation of my speech۔یہ مضمون ریویو آف ریچز کے ایک شمارہ میں ۱۹۹۰ ء میں شائع ہوا۔اور انٹر نیٹ پر اس ایڈریس پر بھی 19ء انٹرنیٹ دیکھا جا سکتا ہے۔(http://www۔alislam۔org/ibrary/misc۔html (article Poor as a Nation اگلے سال آپ نے مجھے اٹلی سے اپنی کتاب ارمان اور حقیقت Ideals & Realities کی دس کا پیاں ارسال فرمائیں، جو میں نے کینڈا کی معروف یونیورسٹیوں کو ارسال کر دیں۔ان کتابوں کے ہمراہ نصف درجن تصاویر بھی تھیں۔کچھ مہینوں بعد مجھے آپ کی طرف سے کتاب Notes on Science موصول ہوئی جس پر مصنف کا نام محمد عبد السلام لکھا تھا اس سے آپ کے عشق محمدی کا اندازہ ہوتا ہے۔جنوری ۱۹۹۲ء میں مجھے آپ کی طرف سے یونی فی کیشن آف فنڈا منٹل فور سز کتاب موصول ہوئی۔جس کے ہمراہ آپ کی سکرٹری Katrina Danfroth کا خط تھا جس میں لکھا تھا۔Professor Salam sends his best regards اس کے بعد مجھے آپ کی طرف سے کوئی اور نوازش نامہ موصول نہ ہوا۔آپ کی صحت پارکنسن جیسی بیماری کی بناء پر کافی نا ساز ہو چکی تھی۔میرے دل کی گہرائیوں سے آپ کی شفایابی اور کامل صحت کیلئے متفرعانہ دعا ئیں تا دم آخر نکلتی رہیں۔تاریخ ساز انسان ڈاکٹر صاحب کی شخصیت ہمہ جہت، ہمہ رنگ ہمہ گیر تھی۔آپ ایک تاریخ ساز انسان تھے۔اندلس کے دانشوروں کے پانچ سو سال بعد امت مسلمہ میں ایک ایسا نا بغہ روزگار انسان پیدا ہوا جو الرازی۔بوعلی سینا۔الفارابی۔ابن الہیشم ، ابن رشد کے پلہ کا سائینس دان تھا۔جب سے اندلس میں مسلمانوں کا خاتمہ ہوا تب سے کوئی ایسار جل رشید جنم نہ لے سکا تھا جس کے نام سے، جس کے کام سے مسلمان فخر سے سینہ نکال کر بات کر سکتے۔ڈاکٹر صاحب کی ہفت رنگ شخصیت کو چار میموں سے بیان کیا جا سکتا ہے یعنی مفکر، محقق، معلم