مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 41 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 41

عرضداشت بھیجی کہ یہ فرقہ اسلام اور سلطنت دونوں کا غدار ہے۔بادشاہ نے حکم دیا اس ترقہ کے بڑے بڑے لوگوں کے ناک اور کان کاٹ ڈالے جائیں اور اسکے تمام پیروؤں کی ڈاڑھیاں مونڈ دی جائیں۔اسی فرمان شاہی پر حضرت معصوم علی شاہ میر رد نہایت بے دردی سے شہید کر دئے گئے۔ر قاموس المشاہیرا، جلد ۲ ص ۳۲) (۲) حضرت حکیم المیات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ ولادت ۱۲ امیری الله وفات 16 ہجری) بارھویں صدی کے مسلمہ مجدد تھے۔آپ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے ساڑھے گیارہ سو پر کس کے بعد سرزمین ہندوستان میں قرآن مجید کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا اور اس کے بعد ترجمہ نشر آن کی بنیاد پڑی۔۔۔۔اگر غور کیا بجائے تو یہ امت مسلمہ پر آپ کا بہت بڑا احسان ہے۔۔۔۔لیکن اُس زمانہ کے علماء اُصول بجائے آپ کے ممنونِ احسان ہونے اور ہمت افزائی کرنے کے آپ کے مخالف بن گئے اور عوام میں آپ کے خلاف شورش برپا کر دی کہ اس طرح یہ شخص لوگوں میں مگر انہی پھیپ لانا چاہتا ہے۔قرآن کا ترجمہ پڑھ کر لوگ بھٹک جائیں گے۔اس نے دین اسلام میں ایک زبر دست بدعت کی بنا ڈالی ہے۔سلمت صالحین نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ایسا مجرم اور بدعت سیئہ کا مرتکب واجب القتل ہے وغیرہ وغیرہ۔مخالفین نے آپ کے اس فعل حسن کو محض اپنے عناد اور دشمنی کی بنار پر عجب رنگ چڑھایا۔بہت سے لوگوں کو آپ کے خلاف ورغلایا اور تمام شہر میں اس کے خلاف پراپیگینڈا کیا حتی کہ ایک مرتبہ عصر کے وقت جب شاہ صاحب مسحب فتجپوری سے نکل رہے تھے تو ان معاندین نے چند فنڈوں کو ہمراہ لے کر آپ کو گھیر لیا لیکن آپ کسی طرح بیٹے کو نکل گئے۔اس کے بعد یہ مخالفت آہستہ آہستہ ٹھنڈی پڑتی گہ گئی۔