مقربان الہی کی سرخروئی — Page 40
۴۰ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے آپ کے درد ناک واقعہ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :- " اسلام کے اس تیرہ سوبرس کے عرصہ بلی فقہاء کا قلم ہمیشہ تیغ بے نیام رہا ہے اور ہزاروں حق پرستوں کا خون اُن کے فتووں کا دامنگیر ہے۔اسلام کی تاریخ کو خواہ کہیں سے پڑھو مگر سینکڑوں مثالیں کہتی ہیں کہ بادشاہ جب خونریزی پہ آتا تھا تو دارالافتاء کا قلم اور سپہ سالار کی تین دونوں یکساں طور پر کام کرتے تھے صوفیاء اور ارباب وطن پر ہیں نہیں علمائے شریعت میں سے بھی جو نکتہ میں اسرار حقیقت کے قریب ہوئے فقہاء کے ں انہیں مصیبتیں اُٹھانی پڑیں اور بالآخر سر دے کر نجات پائی۔سر مرد بھی اسی تیغ کا شہید ہے " مشاہیر اسلام» بجلد اول مرها ناشر، شوقی پرنٹنگ اینڈ پیلٹ گن مینی منڈی بہائی اشی ایینی بہاؤالدین انجاب (۳) حضرت محمد بن ابراہیم شیرازی رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۵۰ ہجری ) یہ بزرگ بھی جو فلسفیانہ مسائل پر کامل دستگاہ رکھتے اور عام فہم اسلوب تحریر اختیار کرنے میں اپنی نظیر آپ تھے محض اس " برویم کی پاداش میں کا فر قرار پائے کہ آپ کا طرز تحریر عام شھر اور سلیس تھا۔دہ حکمائے اسلام، حصہ دوم ماه مواد عبد السلام ندوی) بارھویں صدی ہجری (۱) حضرت معصوم علی شاہ میر رحمۃ اللہ علیہ (وفات ۱۲۱۵ انجری ) آپ حضرت سید علی رضا و گنی کے مرید اور خلیفہ تھے اور طبقہ صوفیاء میں ایک نئے فرقہ کے بانی بھی۔آپ کے اور آپ کے فرقہ کے خلاف تکفیر کی ذہنیت نے جو مظاہرہ کیا وہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔علماء ظواہر نے علی مراد خاں بادشاہ کے پاس