مقربان الہی کی سرخروئی — Page 34
خم شد (۴) حضرت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ (ولادت ۶۱ ہجری ، وفات ۷۲۸ ہجری ) آپ عالم جلبیل اور مجاہد کبیر تھے۔مزہد و تقویٰ علم و فضل اور شجاعت میں بیگانہ روزگار تھے۔آپ ایک لمبے عرصہ تک رُوح کا فرگری کے ہاتھوں ستائے گئے اور بالآخر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے قید خانہ میں ہی انتقال فرما گئے۔اس اجمال کی تفصیل ہمیں علامہ محمد بن شاکر قطبی کی مشہور کتاب فوات الوفیات صفحہ ۳۹ و بم سے یوں ملتی ہے کہ علماء و فقراء زمانہ نے یہ خیال کر کے کہ امام ابن تیمیہ ہمارے طریقہ کے خلاف چلتا اور ہماری جماعت کو توڑتا ہے۔ان لوگوں نے آپ کا معاملہ متفقہ کوشش سے حکام تک پہنچایا اور ہر ایک نے اپنی منکر آپ کے گھر میں چلائی اور محضر نا مے تیار کر کے عوام کو بھڑ کا یا کہ انکو اکابر کے پاس جلد لے جائیں۔آخر آپ دیار مصریہ کے دربار حکومت میں پیشیں کئے گئے اور جاتے ہی قید خانے میں ڈال دئیے گئے اور باندھے گئے۔گوشہ نشین فقراء اور مدارس کے علماء وغیرہ ہر قسم کے لوگوں نے آپ کو موت کے گھاٹ اُتارنے کے لئے مجالس عمل قائم کیں۔شیخ الاسلام کے مصائب یہیں تک ختم نہیں ہو گئے بلکہ اس کے بعد بھی یکے بعد دیگر نے کئی آزمائشوں میں سے آپ کو گزرنا پڑا اور عمر بھر ایک ابتلاء میں سے دوسرے ابتلاء سے دو چار ہونا پڑا یہاں تک کہ آپ کا معاملہ ایک قاضی کے سپرد ہوا جس نے آپ کو قید میں رکھنے ہی کا فیصلہ دیا یہاں تک کہ قضائے الہی نے قید خانے سے خدا کی آغوش رحمت اور جنت میں آپ کو پہنچا دیا۔تاریخ اہل حدیث ، صفحه ۱۵۹ ۱۶۰ از مولانا حافظ حمد ابراہیم میر سیا اکوانی ناشر: اسلامی پبلشنگ کمپنی اندرون لوہاری دروازہ لاہور۔طبع اول ۱۹۵۳ در من الموت میں وزیر مشق آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جو قصور مجھ سے سر زد ہوا ہے مجھے معاف کر دیا جائے۔چونکہ امام موصوف یہ سب آزمائشیں محض خدا کے لئے جھیل رہے تھے اس لئے آپ نے جواب میں فرمایا میں نے تم کہ بھی اور ان تمام لوگوں کو بھی معاف کیا جنہوں نے مجھ سے دشمنی کی۔میرے مخالفین کو یہ معلوم نہ تھا کہ لیکن حق پر ہوں۔یکس نے شاہ وقت