مقربان الہی کی سرخروئی — Page 33
۳۳ آگئے اور انہوں نے لڑکیوں کو گانے بجانے سے روکا۔اس پر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا ان لڑکیوں کو گانے بجانے سے نہ رو کو آج ان کا عید کا دن ہے اور ہر قوم کا ایک عید کا دن ہوتا ہے۔یہ حدیث سن کر مفتی اعظم نے کہا " ترا با حدیث چه کار تو کہ مشرب ابوحنیفه داری قول ابو حنیفہ بسیار تو جمہ۔تم کو رسول کی حدیث سے کیا واسطہ تم حنفی ہو اور ابو حنیفہ کا مشرب رکھتے ہو تو ابو حنیفہ کا قولی دلیل میں پیش کرو۔حضرت نے جواب دیا۔سبحان اللہ ! من که قول رسول می آرم تو می گوئی کہ قول امتی بسیار ؟ ابوحنیفه که بود که من قول او بمقابلہ قول رسول سے آرم ؟ " ترجمہ : سبحان اللہ میں رسول اللہ کا قول پیشیں کرتا ہوں اور تم ایک امتی کا قول مانگتے ہو۔ابو حنیفہ کون تھے جن کا قول رسول کے مقابلے میں پیش کروں۔جو قوم رسول کے قول کے مقابلے میں ایک اُمتی کا قول مانگتی ہے وہ اس سے نہیں ڈرتی کہ وہ قوم جلا وطن ہو جائے اور قحط میں مبتلا ہو اور شہر برباد و ویران ہو جائے۔یہ ستار مفتی اعظم اور شیخ زادہ فرحام نے بادشاہ اور حاضرین کو اشتعال ولانے کے لئے کہا۔خدا کی پناہ! اس شخص نے معامی شریعت اور نا صر فقہ حنفی بادشاہ کی موجودگی میں امام ابو حنیفہ کی توہین کی ہے اور کہتا ہے ابو حنیفہ کون تھے سالانکہ ابھی اس نے کہا تھا کہ ایک حنفی ہوں اور امام ابو حنیفہ کا مقلد ہوں۔مفتی اعظم کی حکمت کارگر ہوئی اور جتنے میلاد اُس کے ساتھ تھے اُن سب نے بیگی بگرد کر تے کے لہجے میں کہنا شروع کیا اس نے امام کی توہین کی ہے اور مجلس میں چاروں طرف سے آواز میں آنے لگیں یہ شخص مجرم ہے۔یہ خص گستاخ ہے۔کتاب " انوار اولیاء " ۲۹ ، ۲۹ در ذکر خواجه نظام الدین اولیاء مطبوعہ علمی پرنٹنگ پریس لاہور۔