مقربان الہی کی سرخروئی

by Other Authors

Page 32 of 47

مقربان الہی کی سرخروئی — Page 32

۳۲ ساتویں صدی ہجری (۱) حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی ۶۵۲ ہجری) آپ جلا و مغرب کے رہنے والے مشائخ کبار میں سے تھے۔آپ پر بھی زندقہ کا الزام لگایا گیا۔(الیواقیت والجواہر جلد اصلا) (۳) حضرت شیخ ہور الدین عبد العزيز بن عبد السلام رحمة الل عليه المنتوی ۲۰ ہجری) آپ شہرۃ المعارف کے مصنف تھے جنہیں دوسرے اہل اللہ کی طرح تکفیر کا نشانہ بنایا گیا۔(الیواقیت والجواہر جلد اصلا) (۳) حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۶۳۴ ہجری وفا ، ۵ ہجری) بر صغیر پاک و ہند کے نامور صوفی اور سلطان المشائخ تھے۔حضرت بابا گنج شکر آپ کے پیرو مرشد اور مشہور شاعر امیر خسرو دہلوی ” آپ کے مرید با صفا تھے " انوار اولیاء میں لکھا ہے کہ اب ہ شاہی محل کے سامنے زمین پہ فرش بچھایا گیا۔صدر ملی بادشاہ اپنے فوجی افسروں کے جھرمٹ میں بیٹھا تھا جو سب ہتھیار بند تھے۔اُس کے دائیں طرف علماء کی صف بھی میں کے بیچ میں مفتی اعظم حاکم شرع بیٹھے تھے مفتی صاحب نے پوچھا کیا آپ مسلمان حضرت نے جواب دیا الحمد للہ میں مسلمان ہوں میغنی نے سوال کیا کیا آپ منفی ہیں ؟ حضرت نے جواب دیا ہاں ! یکی امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتا ہوں مفتی نے پوچھا کیا آپ گانا سنتے ہیں ؟ حضرت نے جواب دیا ہاں یکس گانا سنتا ہوں۔۔۔۔مفتی صاحب نے کہا کوئی دلیل اس طرح گانا سننے کے جواز میں آپ کے پاس ہے؟ حضرت نے فرمایا بخاری شریف میں صحیح حدیث موجود ہے۔اس کے بعد حضرت نے وہ حدیث پڑھی جس کا مطلب خواجہ سید محمد امام نے مجھے بتایا کہ حضرت نے یہ حدیث پڑھی ہے کہ رسول اللہ کے سامنے مدینے کے انصار کی لڑکیاں دکن بجابجا کر گار نہیں تھیں اور حضرت اُن کا گانا سُن رہے تھے۔اتنے میں حضرت عمر رض وہاں