مقربان الہی کی سرخروئی — Page 28
۲۸ چھٹی صدی ہجری (۱) حضرت غوث اعظم سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ولادت ۴۷۰ ہجری وفات ۵۶۱ ہجری ) آپ صوفیاء کے مشہور و معروف سلسلہ قادریہ کے بانی اور صاحب کرامات عالم ربانی تھے۔آپ کی تصانیف بکثرت ہیں جن میں غُيَّةُ الطَّالِبِينَ " فُتُوحَ الْغَيْبِ اوربَهَجَةُ الاسرار" بہت مشہور ہیں۔" الفتح الربانی" آپ کے ملفوظات کا نہایت عصر افروز مجموعہ ہے۔اقلیم روحانیت کے اس روحانی بادشاہ کو بھی ہدف تکفیر بنایا گیا ہے کس کیم یا رصد یقے نہ شد تا بخشم غیر زندیقی نه شد مشہور ہے کہ علامہ ابو الفرح عبد الرحمن علی بن جوزی اور اُس کے ہمنوا دو سو علماء نے عالم اسلام کی اس برگزیدہ ہستی کے خلاف فتوی کفر دیا۔علامہ مذکور کی کتاب تلبیس ابلیس میں جابجا صوفیاء پر سخت تنقید کی گئی ہے اور حضرت غوث اعظم کی شان میں بالواسطہ طور پر اشاروں اور کتابوں سے بڑی گستاخیاں کی گئی ہیں۔"حالات جناب غوث الاعظم " " میں لکھا ہے :۔و به "بعض کوتاہ بینیوں نے انہیں اہل الضلال والطغیان کے موافق فتویٰ دے دیا (صفحہ ) مولفه این وسیم، مکتبه عزیزی میری بازار لاہور) (۲) حضرت خواجہ فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۵۱۳ ہجری ، شہادت ۶۲۷ ہجری) شریعت و طریقت میں یکتا تھے " تذکرۃ الاولیاء آپ ہی کی تصنیف ہے۔آپ پر شیعیت کا الزام دے کر بازار کا فگری کو زینت دی گئی۔ناچار آپ نے لوگوں سے بالکل تقلع تعلق کر لیا اور گوشہ نشین ہو گئے۔مقدر من تذكرة الاولياء" ناشر منزل نقشبندیہ لاہو)