مقربان الہی کی سرخروئی — Page 27
۲۷ نیست و نابود کر دینا چاہتی تھی اس لڑیچر کو حق تعالیٰ نے ایسی مافوق المعادت عظمت بخشی کہ صد یابی گذرنے کے بعد آج چار دانگ عالم میں اُس کی دھوم ہے جو حضرت امام غزالی رح جیسے پاک نفس اور پاک باطی بزرگ کے جذبۂ خلوص، میر اور دعاؤں کی کرامات ہے۔(۲) حضرت امام ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ (ولادت ۳۸۴ ہجری ، وفات ۴۵۶ ہجری ) آپ حدیث نبوئی اور اقوال صحابہ کے متبحر عالم، تاریخ و نفسیات کے ماہر، نابغہ روزگار متکلم، بہترین ادیب عظیم فقیہ اور مورخ تھے علم انساب، نحو، گفت ، شعر، طب، منطق اور فلسفہ میں بھی آپ کو ید طولی حاصل تھا۔آپ کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ چرا او را است کتاب و سنت سے احکام شریعیت کا استنباط کرتے تھے۔یہ چیز علمائے وقت اور فقہائے زمانہ کو سخت ناگوار گزری اور انہوں نے بالا تفاق آپ کے گمراہ ہونے کا فتوی صادر کر دیا چنانچہ" معجم المؤلفین میں لکھا ہے :۔كَانَ يَسْتَنبِطُ الاحكام مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَةِ وَانْتَقَدَ كَثِيرًا مِّنَ الْعُلَمَاءِ وَ الْفُقَهَاءِ فَاجْمَعَ هَؤُلَاءِ عَلَى تَضْلِيلِهِ وَحَذَرُوا اَرْبَاب الْحَلِ وَالْعَقْدِ مِنْ فِتْنَتِهِ وَنَهَوْا عَوَامَهُمْ مِنَ الدُّنُو مِنْهُ وَالاحْدِ عَنْهُ فَافْهِيَ وَطُورِد فَرَحِل إلى بادِيَةِ لَيْلَةَ بِالْأَنْدُلُسِ فَتُونِي بِهَا (جلد ، صفحہ ۱۶ مطبوعہ دمشق ) ترجمہ :۔آپ کتاب و سنت سے شرعی احکام کا استنباط کرتے اور علماء اور فقہاء پر بکثرت تنقید کرتے تھے جس پر انہوں نے متفقہ طور پر آپ کو گمراہ قرار دیا۔ارباب حکومت و سیاست کو آپ کے فتنہ سے خبردار کیا اور عوام کو آپ کے قریب آنے اور آپ سے استفادہ کرنے کی ممانعت کر دی اور نہایت بے عزتی سے آپ کو بہت دُور شہر بدر کر دیا گیا چنانچہ آپ اندلس کے قبلہ نامی جنگل کی طرف تشریف لے گئے اور وہیں وفات پائی۔