مقربان الہی کی سرخروئی — Page 29
۲۹ اور (۳) حضرت علامہ ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ ( ولادت ۲۰ ۵ ہجری ، وفات ۵۹۵ ہجری) علامہ ابن رش را علم و فضل کے آفتاب تھے۔فلسفہ ، علیم الہیات حکمت، طبت ریاضی میں امام تھے۔اِن علوم و فنون میں آپ نے چالیس تصانیف کی چھ کے لاطینی اور عبرانی زبانوں میں تراجم ہوئے۔یورپ کے فلسفہ جدید کی بنیاد آپ ہی کی تصانیف ہیں۔علم کے اعتبار سے ارسطو کے بعد ابن رشد کو دوسرا بڑا انسان سمجھا جاتا ہے۔یوں روح کا فرگری نے اس یگانہ روزگار اور نہایت باکمال بزرگ کو بھی معاف نہیں کیا۔مولانا عبد السلام ندوی آپ کے خلات کفر و ارتداد کے فتاوی کا ذکر کرتے ہوئے "۔لکھتے ہیں :- ابن رشد کے دشمنوں نے اس پر الحاد و بے دینی کا جو الزام لگایا تھا اس کی بناء پر اس معاملے نے ایک قومی اور مذہبی صورت اختیار کر لی تھی اور اسی حیثیت سے اس پر فرد قرار داد جرم لگائی گئی بچنا نچہ قرطبہ کی جامع من مسجد میں ایک عام اجتماع ہوا جس میں تمام علماء وفقہاء شریک ہوئے۔اس اجتماع کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ ابن رشد " گمراہ اور لعنت کا مستوجب ہو گیا ہے۔اور چونکہ قاضی ابو عبد اللہ بن ابراہیم الاصولی کی بعض باتوں سے بھی اس الحاد و بے دینی کا اظہار ہوا تھا اس لئے وہ بھی بھا مر کئے گئے تو سب سے پہلے قاضی ابو عبد اللہ بن مروان نے تقریر کی اور کہا کہ اکثر چیروان میں نفع و ضرور دونوں ہوتا ہے۔لیکن جب نفح کا پہلو ضرر کے پہلو پر غالب آجاتا ہے تو این ام سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے ورنہ وہ چیز چھوڑ دی بھاتی ہے۔آکسن کے بعد خطیب ابوعلی بن حجاج نے اعلان کیا کہ یہ تمام لوگ ملحد اور بے دین ہو گئے ہیں۔اس کے بعد ان لوگوں کو جلا وطن کیا گیا اور ابن رستا ن کو بوسینا میں جو قرطبہ کے پاس ہو دیوں کی ایک بستی ہے نظر بند کیا گیا کیونکہ بعض لوگوں نے شہادت دی تھی کہ اس کا سلسلہ نسب یہودیوں سے ملتا ہے ، حکمائے اسلام۔۔۔