مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 35
35 افراد اس کے جاری ہونے کا سبب بنتے رہے۔یہ سارے قریش اور سارے عرب کے لئے باعث فخر اور ان کی عزت اور عظمت کا نشان بھی تھا۔اے قریش! تم نے چشمہ کی عظمت کو تو مان لیا۔اس پر تو فخر کیا۔اس کی شان میں قصیدے کہے جو آج بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔مگر تم میں سے ان پر افسوس! جو اس چشمہ کے ظاہری حسن کو دیکھتے رہے۔اس کے باطنی نشان اور عظمت سے واقف نہ ہو سکے۔یہ نہ سمجھ سکے کہ عبدالمطلب نے اسی چشمہ کی خاطر نب اپنے سب سے عزیز اور پیارے بیٹے عبداللہ کو خدا کی منشا کے مطابق قربان کرنا چاہا۔تو خدا نے اس قربانی کو ظاہری رنگ میں قبول نہیں کیا۔بلکہ باطنی رنگ میں عبداللہ کے جگر گوشے عبدالمطلب کے پوتے اور آمنہ کے لال کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنا محبوب بنا کر قبول کر لیا۔اس چشمہ کے ساتھ ایک اور چشمہ کو جاری کیا۔کہ اس کے بعد پھر کسی چشمہ کی ضرورت نہ رہی۔ہر پیاسا چاہے وہ دنیا کے کسی خطے سے تعلق رکھتا ہو۔اگر اس کی پیاس بجھتی ہے تو اس چشمہ محمدی کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی سے۔ورنہ وہ پیاسا صحراؤں میں بھٹکتا ہے۔تڑپتا ہے۔کبھی وہ بنی اسرائیل کے چشموں پر جاتا ہے۔کبھی نصرانیت کے کنوئیں اس کو تشنگی بجھانے کی دعوت دیتے ہیں۔کبھی ہندو ازم کے جو ہر اس کو پکارتے ہیں۔اور کبھی سوشلزم کی جھیلیں اس کو اپنا جلوہ دکھاتی ہیں۔کبھی بدھ مت کے تالاب اور کبھی آتش پرستوں کے گڑھوں میں بھرا ہوا ٹھہرا ہوا پانی اس کو بُلاتا ہے مگر پینے کے باوجود بھی پیاس نہیں بجھتی۔تشنگی بڑھتی ہے اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔جب اس کی صدائیں صحراؤں میں گونجتی اور پہاڑوں سے ٹکراتی ہوئی اس چشمہ یعنی چشمہ محمدی پر پہنچتی ہیں۔تو ایک مترنم گیت پیدا ہو کر اس کی بازگشت سارے جہان میں سنائی دیتی ہے کہ آؤ! اور