مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 34 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 34

34 ملے گی۔جس کے دو تیر نہیں نکلیں گے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔آپ خدا کے حضور دُعا کرنے لگے۔اور تیر ڈالنے والے نے اپنا کام شروع کیا۔تو خدا نے کیا کیا کہ کعبہ کے نام دوسونے کے ہرن نکلے۔تلواریں اور زرہیں حضرت عبدالمطلب کے نام نکل آئیں۔اور قریش کے تیر خالی گئے۔اس طرح ایک بار پھر خدا نے فیصلہ کر دیا کہ قومی دولت کا حق بھی اسی خاندان کا ہے۔چونکہ اس نے آگے چل کر امین ہونا ہے۔لیکن بچو! حضرت عبدالمطلب نے بھی امانت کا حق ادا کر دیا۔انہوں نے تلواروں کو کعبہ کے دروازے کے طور پر لگایا۔ہرنوں کو دروازے میں نصب کر دیا۔اور خود چشمہ سے حاجیوں کی خدمت کا حق ادا کرنے لگے لیے کہتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا سونا تھا۔جو خانہ کعبہ کو سجانے کے لئے استعمال ہوا۔حضرت عبدالمطلب اگر چاہتے تو اس ساری دولت کو اپنے عیش و آرام پر خرچ کر سکتے تھے۔مگر خانہ کعبہ کی محبت نے ان کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ سب خدا کے گھر کی نذر کر دیا جائے۔اور ایک بچے امین کی یہی پہچان ہے کہ وہ خود اس امانت کو اس کی صحیح جگہ پر خرچ کرے۔یوں خدا نے ایک بار پھر اس مقدس چشمہ کو جاری کر کے دنیا کو بتایا کہ اب اس کا مالک آنے والا ہے۔اب مکہ میں انسانوں کی کثرت ہو گی۔اس لئے کوئی قوم پیاسی نہ رہے۔چنانچہ یہ چشمہ تمام دوسرے کنوؤں پر سبقت لے گیا۔اس کا پانی اتنا بڑھا کہ سارے حاجیوں کی ضرورت کو پورا کرتا۔چونکہ مسجد الحرام میں تھا۔اس لئے سب اسی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔پھر یہ محترم بھی تھا۔کیونکہ مقدس اور نیک ل ابن اسحق