مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 30 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 30

30 گیا ہے وہ میں ضرور کروں گا۔تم لوگ میری مدد نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں۔میں اپنے بیٹے کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے اکلوتے بیٹے حارث کو لے کر چشمہ کی تلاش میں نکل پڑے۔اس پر تمام قریش کے سردار آپ کا مذاق اُڑانے لگے کہ اکیلے بچے کے ساتھ کیا ہوگا۔حضرت عبدالمطلب کو سخت دُکھ ہوا کہ بجائے مدد کرنے کے یہ میرا مذاق اُڑا رہے ہیں۔میری کمزوری کا کہ ایک بیٹا ہے۔پھر میں غریب بھی ہوں۔ان لوگوں کی طرح میرے پاس دولت نہیں۔اسی وقت انہوں نے کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی۔اے خدا ! اگر تو نے مجھے دس بیٹے دے۔اور وہ میری آنکھوں کے سامنے جوان ہوں تو میں ان میں سے ایک جسے تو چاہے تیری راہ میں قربان کر دوں گا۔یہ لوگ اس نیک مقصد میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔میری دعا ہے کہ میری اولاد تیرے گھر کی محافظ ہو۔پھر وہ دعا کرتے ہوئے حارث کے ساتھ چلے۔جہاں قریش اپنے جانور قربان کیا کرتے تھے۔وہاں انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو دیکھا۔ساتھ ہی کو ابھی چونچ مار رہا تھاتے۔و ہیں انہوں نے کھدائی شروع کی۔یہ دیکھ کر قریش کے لوگ بھی وہاں جمع ہونے لگے۔آپ کھودتے جا رہے تھے۔اور قریش کے افراد حیرت سے دیکھ رہے تھے۔کیا ہو گیا ہے عبدالمطلب کو۔صرف خواب کی وجہ سے اتنی محنت کر رہا ہے۔کیا معلوم ملے نا ملے۔مگر آپ کے عزم اور حوصلہ کی وجہ سے خاموش تھے۔ابھی زیادہ کھودا بھی نہ تھا کہ اندر کا راز کھل گیا۔اس پر حضرت عبدالمطلب نے تکبیر کا نعرہ لگایا۔اب قریش جان گئے کہ آپ کو سچ بتایا گیا تھا۔جب اور کھودا گیا تو اس میں سے وہ دولت جو چشمہ میں ڈالی گئی تھی یعنی دوسونے کے ہرن اور نہایت سفید 1 سیرۃ ابن ہشام جلد اول 2 ابن اسحق