مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل

by Other Authors

Page 31 of 57

مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 31

31 تلوار میں اور زر ہیں لے ملیں۔یہ قبیلہ جرہم کے سردار عمرو بن الحرث جرہمی نے مکہ سے جاتے ہوئے اس میں ڈال دی تھیں۔اب تو قریش کو سخت افسوس ہوا۔کہ اگر ہم مدد کرتے تو ان سب چیزوں سے ہم کو بھی حصہ ملتا۔مگر اب کیا کریں۔قریش کو فوراً ہی احساس ہوا کہ یہ تو ہمارے آباؤ اجداد یعنی باپ دادا کی دولت ہے اس میں ہم بھی حصہ دار ہیں۔انہوں نے حضرت عبدالمطلب کو کہا کہ ہم کو بھی حق دو۔ورنہ ہم جھگڑا کریں گے۔آپ نے قریش کے لوگوں کو جواب دیا۔کہ جھگڑے کی کوئی بات نہیں۔چلو کسی کو ثالث بنا لیتے ہیں۔جیسے حج ہوتا ہے نا۔اور وہ جو فیصلہ کرتا ہے۔اس کو مان لیتے ہیں۔اس پر قریش نے کہا کہ قبیلہ بنی سعد کی کاہنہ یعنی جادوگرنی جس کا نام ہذیم تھا۔اسے مقرر کرتے ہیں۔اور بچو وہ ملک شام کے بلند علاقوں میں رہتی تھی۔حضرت عبدالمطلب کے ساتھ قریش کے قبیلوں کا ایک ایک آدمی سوار ہو کر شام کی طرف چلے۔تاکہ اس کا ہنہ سے فیصلہ کروا سکیں۔اس زمانہ میں چونکہ شہر آج کل کی طرح پھیلے ہوئے اور دُور دُور تک آباد نہیں ہوئے تھے۔بلکہ چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں۔راستے پر خطر اور ویران تھے۔اس وقت تیز رفتار سواریاں بھی نہیں تھیں۔اسی لئے اونٹوں پر سفر ہوتا تھا۔اور بعض اوقات مہینوں بعد کوئی قافلہ گزرتا تھا۔اس وجہ سے وہ راستے بہت ہی ویران تھے۔پھر جیسا کہ پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ عرب ایک صحرا ہے۔اور صحرا میں پانی نہیں ہوتا۔اس لئے لوگ سفر کے لئے کافی پانی لے کر چلتے تھے۔اگر راستہ میں ختم ہو جاتا تو بڑی مشکل ہوتی۔اور بعض دفعہ تو قافلے کے قافلے پیاسے مرجاتے تھے۔1 سيرة النبي حصہ اوّل ابن ہشام صفحہ 171