مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 29
29 ہی ہوا۔اب وقت آ گیا تھا کہ چشمہ ظاہر ہو جائے اور جو چھوٹے چھوٹے کنوئیں اس وقت مکہ میں موجود تھے۔ان سے پانی تو حاصل ہوتا تھا۔وہ مکہ کے لوگوں کو تو شاید پورا ہو جاتا۔مگر حاجیوں کی کثرت کی وجہ سے ہمیشہ کمی کا احساس رہتا۔اب اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ پانی کی کمی نہ رہے۔پیاس محسوس نہ ہو۔بظاہر یہ دُنیا کے پانی کی بات ہو رہی تھی۔لیکن وہ قادر خدا اپنی قدرت کے ذریعہ بتا رہا تھا کہ اب ایسا چشمہ بھی ظاہر ہو گا جس کا پانی کبھی نہیں سوکھے گا۔یعنی اسلامی تعلیم قرآن پاک جو سب آنے والوں کو سیراب کرے گا۔اب ان چھوٹے کنوؤں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔یعنی دوسرے نبیوں کی تعلیمات کیونکہ وہ تو چھوٹے کنوئیں تھے نا۔اس میں پانی بھی کم تھا۔سب مل کر بھی ضرورت پوری نہیں کرتے تھے۔لیکن اس چشمہ سے ہر دور کے ہر انسان کی ضرورت پوری ہوگی۔یہ زمزم ایک ظاہری اور جسمانی چشمہ ہے مگر روحانی اور حقیقی چشمہ چشمہ محمدی ہو گا جو کبھی کسی کو پیاسا نہیں چھوڑے گا۔تو بچو! چاہ زمزم چشمہ محمدی کا ایک ظاہری نشان ہے۔خدا تعالیٰ ان ظاہری نشانوں سے ہی اپنے روحانی نشانات سمجھاتا ہے مگر جو اس کی قدرت سے اس کے فضل سے سمجھ رکھتے ہیں یا جن کو ایسی طاقت ہوتی ہے کہ وہ خدائی نشانات کو سمجھ سکیں۔وہ جان لیتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور کیا ظاہر ہوگا۔میرے حسین بچو! حضرت عبدالمطلب نے اس چشمہ کی تلاش کا ارادہ کیا۔انہوں نے کعبہ میں کھڑے ہو کر قریش سے مدد مانگی۔پہلے تو کچھ لوگ راضی ہوئے مگر بعد میں انکار کر دیا۔آپ نے بڑے عزم سے کہا کہ مجھے جس کا حکم دیا 1 ابن اسحق