مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 17
17 بھی خدا کی راہ میں قربان کرنے کا ارادہ کیا گیا۔لیکن اس کو بچا کر انسانی قیمت کو بڑھا دیا۔اور ساتھ ہی اس راز پر سے بھی پردہ اُٹھا دیا کہ کون پیارا ہے۔ہاں وہی جو عبداللہ کا جگر گوشہ ہوگا۔اس کو ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے لئے پچن لیا۔وہ ازل سے میرا ہی تھا اور ابد تک میرا ہی رہے گا۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اس کو پہچان لینا۔تو بچو! دنیا میں بچوں کو اپنے ماں باپ کی طرف سے ورثہ میں روپیہ ملتا ہے۔جائداد ملتی ہے۔کارخانے ملتے ہیں۔جانوروں کے ریوڑ ملتے ہیں۔سونے، چاندی، ہیرے کی کانیں ملتی ہیں۔لیکن میرے محبوب خدا کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ورثہ ملا۔وہ ان سب دنیاوی ورثوں سے مختلف اور منفرد تھا۔غور کرو! ان دنیوی چیزوں کی کیا حقیقت ہے۔یہ سب مُردہ ہیں۔وقت کے ساتھ فنا ہونے والی ، بے جان ورثہ، مُردہ ورثہ۔لیکن جو ورثہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا۔وہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والا، زندہ ورثہ یعنی اپنے جد امجد کے ذریعہ قربانی کا ورثہ۔خدا کی راہ میں قربانی کا۔اور اس مقدس بچہ نے اپنے ورثہ کی بڑی حفاظت کی۔اور اس کی اعلیٰ مثالیں دنیا کو دکھائیں کہ اپنی اولاد کو قربان کر دیا۔دولت و جائداد لٹا دی۔دوستوں، عزیزوں کے جذبات و احساسات کو قربان کیا۔ماننے والوں، چاہنے والوں، فدا ہونے والوں کو خدا کی راہ میں سچ سچ ذبح ہوتے دیکھا۔لیکن اُف نہ کی۔اور اپنا کیا حال تھا کہ اپنا وجود، اپنے جذبات واحساسات و خواہشات، اپنا نفس غرضیکہ سب کچھ اپنے مولا کی رضا پر قربان کر دیا۔اپنا کچھ نہ تھا۔جو تھا خدا کا تھا۔کتنا عظیم اور بابرکت ورثہ تھا جو میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو ملا۔اور ایسے قیمتی ورثہ کے مالک بچے کی کیا شان تھی کہ وہ عرب کے سب بچوں سے زیادہ پیارا تھا۔پیاری عادتوں کا مالک تھا، سچا تھا اسی لئے صدیق کہلایا، ہر امانت کا اس کو