مقدس ورثہ، چشمہٴ زمزم، اصحاب فیل — Page 16
16 آخر ہوتے ہوتے سو (100) اُونٹ ہو گئے۔جب سو اونٹ اور عبداللہ کے نام قرعہ ڈالا تو قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔باپ کو کچھ تسلی ہوئی۔لیکن دل ابھی مطمئن نہ تھا۔دوبارہ مزید تسلی اور اطمینان کے لئے قرعہ ڈالا۔ہر بار اونٹوں پر نکلا۔اور اس طرح حضرت عبداللہ کے بدلے اُسی وقت سو اونٹ قربان کر دیے گئے۔کہتے ہیں کہ قربان گاہ میں اونٹ ہی اُونٹ تھے۔انسان تو حقدار تھے ہی۔مگر کسی جانور اور پرندے کو بھی روکا نہیں گیا۔ہر ایک نے اس مقدس قربانی کے گوشت سے حصہ لیا تھا۔۔۔تو بچو! اللہ تعالیٰ نے جہاں دنیا کو یہ بتایا کہ قریش کے خاندان بنو ہاشم کا چشم و چراغ عبد اللہ آج مجھے عزیز ہے۔اسی کے بچے نے میری خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنا ہے۔اس لئے وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔وہاں یہ بتانا بھی مقصود تھا۔کہ انسان کی قدر و منزلت بڑھتی جا رہی ہے اور اُسی وقت سے عربوں میں انسان کا خون بہا سو اونٹ مقرر ہو گیا تھے۔گویا انسانی عظمت، انسانی وقار، انسانی قدر و منزلت کی ترقی کا دور شروع ہونے والا ہے۔اور خدا نے دنیا کو بتایا کہ اسمعیل پیارا تھا۔میں نے اس کو مانگا۔اس کو میری راہ میں پیش کیا گیا۔مگر میں انسانوں کو قربان نہیں کروا تا بلکہ ان کو آزماتا ہوں اور جو اس آزمائش میں پورے اُتریں سب کو ان کی خدمت میں لگا دیتا ہوں۔پھر اسمعیل کی اولاد میں سے عبدالطلب کو چنا۔اور ان کو چاہ زم زم دیا مکہ کی سرداری دی۔کعبہ کی تولیت دی۔دنیاوی دولت دی۔پھر خواہش کے مطابق اولا د دی۔ان کو جوان بھی کیا۔پھر ان بچوں میں سے ایک بچہ عبداللہ کو چنا۔اس کو 1 ابن ہشام جلد اوّل 2 ابن سعد حصہ اوّل ذکر نذر عبد المطلب