مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 76
مشکلات کے دس برس کے اندراندر اس فتنہ کوختم کر کے چھوڑے گا۔‘ ! سوچنے کی بات یہ ہے کہ کہاں ہیں چوہدری افضل حق اور کہاں ہے مجلس احرار اسلام اور کہاں ہے اس کا وسیع نظام۔دونوں کا نام ونشان مٹ چکا ہے۔کیا مرزا صاحب کا کہنا حرف بحرف صحیح ثابت نہیں ہوا کہ اور ایسا ہوگا کہ وہ سب لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور نا کامی اور نامرادی میں رہیں گے۔“ سے مرزا صاحب کی وفات کے بعد آج تک جماعت احمدیہ، مخالف علماء اور ان کے ہمنواؤں کی شدید مخالفت کے باوجود کس حد تک کامیاب رہی ہے اس کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل تین حوالے نمونے کے طور پر درج کئے جار ہے ہیں۔-1 مولا نا محمد علی جو ہر نے جماعت احمدیہ کے متعلق لکھا کہ یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف تبلیغ اور مسلمانوں کی تنظیم اور تجارت میں بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب کہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر : خطبات احرار - صفحہ ۳۷ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۶ء- اشتہار رساله سراج منیر مشتمل به نشا نہائے رب قد بر ضمیمه اخبار ریاض ہند۔امرتسر یکم مارچ ۱۸۸۶ء