مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 400
۴۰۰ مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔اکتے ڈ کے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ میں مصروف ہو گئے۔مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اُپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کر لیا۔میں مرزا صاحب کے ادعائے نبوت و غیرہ کی مقامی کھول چکا ہوں۔لیکن بقولے عیب سے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔اسلام کے متعلق اُن کے بعض مضامین لا جواب ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعوی نہ کرتے۔تو ہم انہیں زمانہ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے۔اگر چہ مولانا سید حبیب صاحب نے مرزا غلام احمد صاحب کی اسلام کے لئے خدمات کا اعتراف کیا ہے لیکن اُن کا مرزا صاحب کا موازنہ خالصتاً دنیا دارانہ ہے۔انہوں نے صورت حال کے اس پہلو کو اہم نہیں سمجھا کہ ایسے تاریک زمانے میں جب اسلام کی حالت بہت خستہ تھی اور اس پر چاروں طرف سے حملے ہورہے تھے۔کیا ا : مولانا سید حبیب ۱۹۳۳ تحریک قادیان - صفحات ۲۰۷ تا ۲۱۰