مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 399 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 399

۳۹۹ سید حبیب صاحب کے طویل تبصرے کے چیدہ چیدہ اقتباسات قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں درج کئے جار ہے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ غدر ۱۸۵۷ء کی تمام تر ذمہ داری بے جاطور پر مسلمانوں کے سر منڈھ دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ارباب حکومت کے دلوں میں مسلمانوں کی طرف سے بغض پیدا ہو گیا۔۔۔مسلمانوں نے علماء کے فتاوی کے باعث انگریزی مدارس سے۔۔۔اجتناب کیا۔مساجد اُجڑی پڑی تھیں۔مکاتب کا نشان مٹ چکا تھا۔صوفیا کے تکیے حدیث شریف و قرآن مجید کے مسائل کی جگہ بھنگ نواز دوستوں کی گپ بازی کا مرکز بن چکے تھے مسیحی پادری ہمیشہ تسلیم کرتے رہے ہیں کہ دنیا میں اُن کے عقائد کے لئے اگر کوئی خطرہ موجود ہے تو اس کا نام اسلام ہے۔انہوں نے اس وقت کو غنیمت اور موقع کو بے حد مناسب جان کر مسلمانوں کو بہکانے کیلئے ایک عالمگیر جد جہد شروع کی۔۔۔دین حقہ اسلام اور اس کے بانی صلعم پر بے پناہ حملے شروع کر دئیے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ مسلمانوں میں سرسید علیہ الرحمۃ نے سپر سنبھالی اور ان کے بعد مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں اترے مذہبی حملوں کا جواب دینے میں البتہ سرسید کا میاب نہیں ہوئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ مسیح پرو پیگنڈا زور پکڑ گیا اور علیگڑھ کالج مسلمانوں کی بجائے ایک قسم کے ملحد پیدا کرنے لگا۔یہ لوگ محض اتفاق پیدائش کی وجہ سے مسلمان ہوتے تھے ور نہ انہیں اسلام پر کوئی اعتقاد نہ ہوتا تھا۔اس وقت کے آریہ اور مسیحی