مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 379
٣٧٩ پھر وہ مرزا صاحب کی خدمت میں مصالحت کی غرض سے پہنچے۔مرزا صاحب نے جواب دیا کہ صلح کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ کرم دین صاحب کہہ دیں کہ متنازعہ خطوط انہوں نے ہی لکھے تھے۔وفد کے ایک ممبر نے کہا کہ وہ مقدمہ سے دستبردار ہونا چاہتا ہے۔مرزا صاحب نے کہا کہ یہ مقدمہ ایماء الہی سے ہے۔جب تک کرم دین صاحب اپنے خطوط کا اقرار نہ کریں کہ اُن کے ہیں جن کا اس نے عدالت میں انکار کیا ہے تب تک کوئی صفائی نہیں۔وفد نے مرزا صاحب سے کہا کہ حکام کی نظر اچھی نہیں۔مرزا صاحب نے کہا کہ حکام کیا کریں گے مجھے سزا دے دیں گے اور کیا کریں گے ؟ ! اس کے بعد بھی مصالحت کی کوششیں جاری رہیں۔بالآخر یہ قرار پایا کہ مرزا صاحب اور مولوی کرم دین صاحب متنازعہ خطوط اور سراج الاخبار کے مضمون کے بارے میں خدا کی لعنت کی شرط رکھ کر اپنے اپنے مؤقف پر قسم کھا ئیں لیکن مولوی کرم دین صاحب اپنے ہی بیان کی سچائی پر قسم کھانے کے لئے تیار نہیں ہوئے که لعنت کا لفظ بہت سخت ہے۔آخر لعنت کا لفظ نکال کرفتم کھانے پر معاملہ طے ہوا مگر مولوی کرم دین صاحب پھر بھی تیار نہ ہوئے۔اس طرح یہ مصالحت کی کوششیں ترک کر دی گئیں۔اخبار الحکم قادیان ۱۴/اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحه ۵ کالم ا ( تاریخ احمدیت جلد سوم، صفحه ۳۰۳)