مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 378
۳۷۸ میں کروں تو مرزا صاحب یہی فرماتے رہے۔چاہے کوئی کرے۔پھر چند ولال خاموش ہو گیا۔iii- ڈاکٹر بشارت احمد مؤلف مسجد داعظم لالہ چند ولال مجسٹریٹ درجہ اول کی تنزلی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گورداسپور جیل میں ایک مجرم کو پھانسی لگنی تھی قاعدہ ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر لالہ چندو لال کی ڈیوٹی لگی۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو لکھا کہ میں بہت رقیق القلب ہوں کسی مجرم کو پھانسی لگتے نہیں دیکھ سکتا اس لئے مجھے معاف رکھا جائے۔ڈپٹی کمشٹر نے۔۔۔کسی دوسرے مجسٹریٹ کی ڈیوٹی لگا دی لیکن ساتھ ہی گورنمنٹ میں رپورٹ کر دی کہ یہ شخص یعنی چند ولال اس قابل نہیں کہ اسے فوجداری اختیارات دیئے جائیں۔چنانچہ اس کی اس رپورٹ پر رائے چندو لال صاحب ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنری سے تنزل ہوکر منصف بنا دیئے گئے“ ہے -۴- مرزا غلام احمد صاحب اور مولوی کرم دین صاحب کے در میان مصالحت کی کوششوں کی ناکامی: جون ۱۹۰۴ء میں گورداسپور کے بعض نیک دل مسلمانوں نے مولوی کرم دین جہلمی کومرزا صاحب کے خلاف دائر کردہ مقدمہ سے دستبردار ہونے پر راضی کر لیا اور ل : اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۱۰۷ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحات ۳۰۱،۳۰۰) ہے : ڈاکٹر بشارت احمد مجد داعظم صفحات ۹۶۷،۹۶۶ ( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحه ۲۹۹ حاشیه )