مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 380 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 380

۳۸۰ -۵- دوسرے مجسٹریٹ مہتہ آ تمارام کا مرزا صاحب سے غیر معقول سلوک : لالہ چند ولال کی تنزلی اور تبدیلی کے بعد مولوی کرم دین جہلمی کا مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف مقدمہ سماعت کے لئے اار اپریل ۱۹۰۴ء کو مہتہ آتما رام صاحب کی عدالت میں پیش ہوا۔انہوں نے بھی مرزا صاحب کے ساتھ بہت غیر معقول اور درشت رویہ رکھا۔اس سے پہلے مرزا صاحب کو ہر عدالت میں خاندانی وجاہت کے ریکارڈ کی مناسبت سے با قاعدہ کرسی ملتی تھی لیکن مہتہ صاحب نے نہ صرف کرسی دینے سے انکار کیا بلکہ بعض مواقع پر سخت پیاس کے باوجود پانی پینے کی بھی اجازت نہ دی۔اور سب سے زیادہ تکلیف اس طرح دی کہ مقدمے کی تاریخیں اتنی قریب قریب مقرر کرنا شروع کر دیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کو مئی ۱۹۰۴ء سے جولائی ۱۹۰۴ ء تک کئی دفعہ گورداسپور آنا جانا پڑا اور اس بارے میں اتنی سختی برتی کہ وسط اگست سے ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۴ء تک مقدمے کی سماعت کی خاطر مرزا صاحب مسلسل گورداسپور میں ہی ٹھہرے رہے اور بالآ خرا ارا کتوبر کو قادیان واپس آئے۔معلوم ہوتا ہے کہ مہتہ آتما رام نے اپنے پیشر ولالہ چند ولال کے حشر سے کوئی سبق حاصل نہ کیا اور آخر تک اس بات کے لئے کوشاں رہا کہ کسی طرح مرزا صاحب کو قید کر سکے۔اس سلسلہ کے چند واقعات کا بیان خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔-- آتما رام مجسٹریٹ نے مقدمہ کو بے حد طویل کر دیا اور سماعت ۱٫۱۱ پریل ۱۹۰۴ء سے جاری کر کے ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ء تک کرتا رہا لیکن اس دوران ان گواہوں کو طلب