مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 341 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 341

۳۴۱ ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور مرزا غلام احمد صاحب کے مشہور مخالف تھے۔اُنہوں نے صحیح بخاری کی شرح لکھی تھی اور اس کا نام فیض الباری رکھا تھا۔مرزا صاحب کی تکذیب میں انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ” بجلی آسمانی برسر دجال قادیانی“ رکھا۔اس کتاب میں ابو الحسن صاحب نے کئی مقامات پر مرزا صاحب کو کاذب قرار دے کر ان کی موت کے لئے بد دعا کی بلکہ فرضی طور پر مرزا صاحب کی وفات کا فی الواقعہ ہو جانا ظاہر کر کے ایک ماتم شعروں کی زبان میں لکھا جو پنجابی میں تھا۔ان میں ابوالحسن صاحب نے دُعا کی کہ خدا مرزا صاحب کی بیخ کنی کرے اور اس کا کچھ بھی باقی نہ رہے اور وہ مرجائے۔پھر مرزا صاحب کو مخاطب کر کے اس کتاب میں لکھا کہ جلدی تو بہ کر تیری موت نزدیک آ گئی ہے اور اے غافل تو آج کل میں مرجائے گا۔ابوالحسن کی کتاب کا یہ حصہ اوّل تھا۔انہوں نے کتاب کا دوسرا حصہ تیار نہیں کیا تھا کہ اسے طاعون نے آ پکڑا۔انیس دن تک جان کنی کی حالت میں چیختارہا اور دردناک حالت میں مرگیا۔قدرت الہی کہ آسمانی بجلی اُن ہی پر گری۔اُن کے بعد ابو الحسن عبدالکریم صاحب نے اس کتاب کو دوبارہ چھپوایا۔وہ بھی طاعون سے ہلاک ہوا۔اے امداد علی۔اسی طرح امداد علی صاحب نے ایک رسالہ بنام’درہ محمدی“ لکھا جس میں نہ صرف مرزا غلام احمد صاحب کی تکذیب کی بلکہ خدا سے مرزا صاحب کے حق میں بددُعا کی کہ خدا انہیں جلدی موت دے دے۔ایک جگہ مرزا صاحب کے بارے میں لعنت اللہ علی الکاذبین بھی لکھ دیا۔پھر اس نے کتاب کا دوسرا حصہ لکھنے کا پروگرام بنایا مگر وہ اس سے پہلے ہی طاعون میں مبتلا ہو گیا۔اپنا گوشت اپنے دانتوں لے : ابوالحسن بجلی آسمانی بر سر دجال قادیانی صفحات ۳ تا ۱۵ (حقیقۃ الوحی صفحات تتمه ۱۶۰۔حاشیہ)