مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 342
۳۴۲ سے کاٹنے لگا آخر اسی دردناک حالت میں خود مر گیا۔اے ۱۰- مرزا غلام احمد صاحب نے ۲ سے ۱۶ / نومبر ۱۹۰۲ء کے دوران ایک قصیدہ عربی زبان میں لکھا اور مع ترجمہ اپنی کتاب اعجاز احمدی کے صفحات ۴۶ تا ۹۷ پر شائع کر دیا۔مرزا صاحب نے اس قصیدے کی بابت الہامی طور پر دعوی کیا کہ کوئی اس قصیدے کے مقابلے میں اتنی ہی مدت میں ایسی فصاحت و بلاغت پر مبنی قصیدہ نہیں لکھ سکے گا اور کوئی شخص اگر ایسی قابلیت رکھتا بھی ہوگا تو خدا کوئی نہ کوئی روک ڈال دے گا۔مرزا صاحب نے خاص طور پر اس قصیدے کو اعجازی کلام قرار دے کر مولوی ثناء اللہ امرتسری ، مولوی محمد حسین بٹالوی اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو بھیج دیا کہ انہوں نے اس قصیدہ کا جواب اتنی ہی مدت میں چھاپ دیا تو سمجھا جائے گا کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کر لیں“ ہے ان حالات میں قاضی ظفر الدین صاحب پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور نے اس قصیدے کا جواب لکھنا شروع کیا تا کہ مرزا غلام احمد صاحب کو کسی طرح مفتری ثابت کیا جا سکے۔قاضی صاحب کو مرزا صاحب سے سخت تعصب تھا۔ابھی وہ جوابی قصیدہ لکھ رہے تھے کہ ملک الموت نے قاضی صاحب کا کام تمام کر دیا اور نامکمل مسودہ اس کے گھر پر پڑا رہا۔قاضی صاحب کا بیٹا فیض اللہ خاں بھی مرزا غلام احمد صاحب کا سخت مخالف تھا۔ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ ء- حقیقۃ الوحی تنتمہ - صفحہ ۱۶۰ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۲ ء - اعجاز احمدی صفحه ۱۰۱