مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 278
۲۷۸ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَايَتَهِ يُؤْمِنُونَ“ ! اگر چہ دس روز تک مرزا صاحب تفصیل کے ساتھ حدیث کے مقابلے میں قرآن کی اولیت پر دلائل دیتے رہے لیکن ہر دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کا یہ جواب ہوتا کہ مرزا صاحب نے میرے سوال کا صاف جواب نہیں دیا۔سامعین بھی مولوی صاحب کے رویے سے تنگ آگئے لیکن مولوی صاحب اصل موضع بحث یعنی حیات و وفات مسیح کی طرف آنے سے گریز کرتے رہے۔آخر جب دلی کے علماء نے مولوی صاحب کے اس گریز پر تنقید کی تو انہوں نے کہا کہ اصل بحث کس طرح کرتا۔۔۔میں مرزا صاحب کو حدیثوں پر لے جاتا تھا اور وہ مجھے قرآن کی طرف لے جاتے تھے۔“ سے ۷- مباحثه الحق دہلی : - مرزا غلام احمد صاحب قادیان سے روانہ ہو کر ۲۹ ستمبر ۱۸۹۱ء کو دہلی پہنچے اور ۲ اکتو بر کو آپ نے بذریعہ اشتہار شیخ الکل مولوی سید نذیر حسین دہلوی اور شمس العلماء مولوی عبدالحق حقانی کو دعوت دی کہ وہ قرآن وحدیث کی رو سے وفات مسیح پر تحریری بحث کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔اس اشتہار کے نکلتے ہی شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب مرزا غلام احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ حضرت میں آپ کا بچہ ہوں آپ میرے بزرگ ہیں۔آپ کا 1 : مولوی عبدالکریم سیالکوٹی ۱۹۰۳ ء- مباحثہ الحق لدھیانہ (طبع دوم ) صفحات ۹-۱۰ : پیر سراج الحق نعمانی ۱۹۰۳ء- تذکرۃ المہدی۔حصہ اوّل صفحہ ۳۵۶