مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 277
۲۷۷ دوران گندی زبان استعمال کرنے کے عادی تھے اس لئے مرزا صاحب کے چند ہمدردوں نے آپ کو مولوی صاحب سے مباحثہ کرنے سے منع کیا لیکن اس خیال سے کہ سنجیدہ بحث کے جواب میں مولوی صاحب کی بد زبانی عوام وخواص کے لئے باعث اطمینان نہیں ہوگی اس لئے وہ اس سے گریز پر مجبور ہوں گے۔مرزا صاحب ۱۸۹۱ء نے اس مباحثے سے تامل نہ کیا۔یہ مباحثہ دس دن ۲۰ سے ۲۹ / جولائی ۸۹۱ تک جاری رہا لیکن اصل موضوع پر بحث نہ ہوسکی۔یہ بحث مباحثہ الحق لدھیانہ کے نام سے چھپ چکا ہے اور ہر خواہشمند اسے پڑھ سکتا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی یہ چاہتے تھے کہ بحث سے پہلے چند اصول طے کر لئے جائیں جن میں سے وہ سب سے اہم اصول یہ طے کرانا چاہتے تھے کہ قرآن شریف کو حدیث پر مقدم کرنا صحیح عقیدہ نہیں ہے۔جب کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا عقیدہ تھا کہ کتاب اللہ مقدم اور امام ہے۔جس امر میں احادیث نبویہ کے معانی جو کئے جاتے ہیں کتاب اللہ کے مخالف واقع نہ ہوں تو وہ معانی بطور حجت الشرعیہ کے قبول کئے جائیں گے لیکن جو معنی نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہر گز قبول نہیں کریں گے بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین کے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآنی ہوگی اور کسی صورت میں ہم اُس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے