مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 185
۱۸۵ یہ مرزا صاحب کی بیعت کی غرض سے قادیان بھی پہنچا لیکن اس کے ناقابل اعتبار ہونے کے باعث مرزا صاحب نے نہ صرف اس کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ اسے قادیان سے بھی باہر نکال دیا گیا۔عبدالحمید ۶ جولائی ۱۸۹۷ء کو امرتسر پہنچا اور بٹالہ کے عیسائی پادری نور دین صاحب سے ملا اور بپتسمہ لے کر عیسائی بننے کا ارادہ ظاہر کیا۔پادری نور دین صاحب نے اُسے امریکن مشن کے انچارج پادری ایچ۔جی۔گرے کے پاس بھیج دیا۔پادری گرے نے محسوس کیا کہ عبدالحمید نکما اور جھوٹا آدمی ہے بعد میں مقدمے کے دوران پادری گرے صاحب نے عدالت میں بیان کیا کہ عبدالحمید نے اُن سے کہا تھا کہ وہ یعنی عبدالحمید اصلی ہندو ہے اور کچھ دن مرزا غلام احمد قادیانی کا مرید رہا ہے لیکن اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے۔لیکن چونکہ پادری صاحب نے اُس کو نا قابل اعتبار گردانا اس لئے اُسے دھتکار دیا۔چنانچہ وہ پادری گرے صاحب سے مایوس ہو کر وہ واپس پادری نور دین صاحب کے پاس پہنچا اور دوسرے عیسائی مشنوں کے بارے میں معلوم کر کے ۱۵؍ جولائی ۱۸۹۷ء کو امرتسر کے میڈیکل مشنری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے پاس جا پہنچا۔- مقدمه اقدام قتل ڈاکٹر مارٹن کلارک نے ۱۵-۱۶ دن بعد عبدالحمید کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ،امرتسر اے۔ای۔مارٹینو کی عدالت میں یکم اگست ۱۸۹۷ء کو پیش کیا اور عبدالحمید کے ایک تحریری بیان کی بنیاد پر مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف مقدمہ قتل دائر کر دیا۔عبدالحمید : پادری ایچ۔جی۔گرے۔۱۸ اگست ۱۸۹۷ء - بیان بعدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور۔ایم ڈبلیوڈ گلس۔(کتاب البریہ صفحہ ۲۴۱)