مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 184
۱۸۴ کے بعد پیش آمدہ واقعات کا مختصر تذکرہ گزشتہ صفحات میں آچکا ہے۔اس دوران یکے بعد دیگرے تین عیسائی لیڈروں اور بالآ خر جنگ مقدس کے بڑے فریق پادری عبد اللہ آتھم کی موت سے پنجاب کے عیسائی حلقے سخت مضطرب تھے مرزا صاحب کی قطعی پیشگوئی کے بعد جب پادری عبد اللہ آتھم ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو فوت ہوئے تو متعدد بہتان طرازیوں کے باجود اور پنجاب میں بڑے بڑے عہدوں پر عیسائی افسران کے فائز ہونے کے باوجود کوئی بھی مرزا صاحب کے خلاف ثبوت مہیا نہ کر سکا۔البتہ عیسائی حلقے اپنے مقتد را حباب کی وفات سے سخت رنجیدہ تھے اور وہ اس بات کے منتظر تھے کہ کسی مناسب موقعہ پر مرزا غلام احمد صاحب قادیانی سے انتقام لیا جا سکے۔یہی حال پنڈت لیکھرام کی ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو وفات کے بعد پنجاب کے آریوں کا تھا۔دونوں فرقے اس بات کے لئے کوشاں تھے کہ اِن اموات میں کسی طرح مرزا صاحب کا غیر قانونی حربہ ثابت کیا جا سکے۔آخر کا ر جلد ہی بظاہر ایک ایسا موقعہ ہاتھ آ گیا جس سے فائدہ اُٹھانے کی غرض سے امرتسر کے میڈیکل مشنری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف مقدمہ اقدام قتل دائر کر دیا۔ا۔مقدمے کے ابتدائی واقعات: ایک ۱۸ سالہ عبدالحمید نامی نوجوان اس مقدمے کا محرک اور مرکزی کردار بنا۔یہ نوجوان جہلم کا رہنے والا تھا اور ایک غیر احمدی عالم مولوی سلطان محمد صاحب کا بیٹا اور مولوی برہان الدین صاحب احمدی کا بھتیجا تھا۔یہ نوجوان عادتاً نکما اور جھوٹا تھا۔اے ل : مولانا نورالدین صاحب ۱۳ ار اگست ۱۸۹۷ ء - بیان بعدالت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور۔ایم ڈبلیوڈ گلس۔(کتاب البریہ صفحہ ۲۴۳)